ہنوز دلی دور است!

حضرت نظامِ اولیا کا عرس جنوری کے پہلے ہفتے میں آ رہا ۔ انڈیا کی حکومت نے اس سال پاکستانی زائرین کو ویزے دینے سے انکار کر دیا ۔ ہر سال دنیا بھر سے عقیدت مند اس عرس میں شرکت کے لیے آ تے ، اور یہ سلسلہ صدیوں سے جاری ۔ یہ آ نے والے، معاشی حساب سے غریب بھی ہوتےاور ارب پتی بھی۔ لیکن ان میں ایک قدر مشترک ہوتی ۔ ان کو عرس کی ان مخصوص تاریخوں میں حضرت کے مزار پہ پہنچنا ہوتا ۔ میں نے ایک بار شدید سرد موسم میں ایک بزرگ کو برہنہ پا بابا فرید کے مزار کی طرف جاتے دیکھا، سردی سے ان کا جسم لرز رہا تھا، مگر وہ مارے عقیدت کے اس شہر میں جوتے پہننے پہ آ مادہ نہ ۔ بزرگ کے دونوں بیٹوں کی ذاتی ایئر لائنز تھیں۔ آ خر ایسی کون سی کراماتکہ اتنی مدت بعد بھی لوگوں کی عقیدت میں کمی ن آ تی؟ پاکستانی زائرین انڈیا میں صوفی بزرگ کے عرس میں شرکت سے محروم نظام الدین اولیا کی درگاہ پر دیوالی ان زائرین کو وہاں کس سے ملنا ہوتا ؟ کیا کرنا ہوتا ؟ ان سوالوں کے جواب بڑے گنجلک ۔ بھلا ویزے کے کسی خانے میں آ پ یہ کیسے لکھ سکتےکہ میں نے پچھلے سال مزار کی جالی پہ دھاگا باندھا تھا، اس برس وہ دھاگا کھول کے منت بڑھانی ۔ کون مانے گا اس بات کو؟ یا یہ کہ میں ہر سال لنگر میں ایک دیگ چڑھاتا ہوں کیونکہ میری نانی نے میری اماں کے پیدا ہونے پہ یہ منت مانی تھی کہ اب سے ہمارے خاندان کی طرف سے ایک دیگ ہر سال چڑھا کرے گی۔ یا یہ کہ میں نے خواب میں ایک مزار دیکھا جہاں قوالی ہو رہی تھی۔ جاگ کر تلاشا تو وہ حضرت نظام کا مزار تھا اب میں وہ قوالی سننے جانا چاہتا ہوں۔ یا یہ کہ دل کو کسی طرح قرار ن، جناب محبوب الہیٰ کے مزار کی پائینتی سر ٹیک کر رونااور بہت رونا ۔ یا یہ کہ مجھے نظام الدین اولیا نے بلایا ، مجھے حاضر ہونا ۔ اجی صاحب! یہ باتیں ویزے دینے والوں کو سمجھ ن آتیں۔ ان کے دماغوں پہ ٹوپیاں اور آ نکھوں پہ کھوپے چڑھے ۔ فیصلے کرتے ہوئے وہ عقل سے کام لیتےجو آ پ کے میرے پاس ن ۔ اب یہ ہی دیکھیے کہ ہماری ایک عزیزہ، ہر سال حضرت نظام کے عرس پہ جاتی ۔ اس بار جی بہت بھرا ہوا تھا۔ ایک مفصل خط جناب محبوبِ الہیٰ کو لکھا، کہ ان کو دوں گی چراغی کی پیٹی میں ڈال دیں گی۔ دل ہی دل میں ڈری بھی کہ حضرت ک گے کہ بابا فرید کے شہر سے مجھے مکتوب کیوں بھیجا، مرشد ہی سے کہہ دیتیں۔ لیکن معاملہ حضرت کے شہر والوں کا ، سو خط بھی ان ہی کو لکھنا تھا۔ خط لکھا رکھا ، مگر ویزے ن مل ر۔ایسا میری زندگی میں پہلی بار ہوا، بھلا فقیروں کو ویزے نہ دینے میں کیا مصلحت؟ جانے بادشاہوں کو فقیروں اوردرویشوں سے کیا پر خاش ہوتی ؟ نظام الدین اولیا سے تو بہت سے بادشاہ ناراض ر۔ شنیدکہ غیاث الدین تغلق اپنے پیش روکی طرح حضرت سے کچھ باتوں پہ اختلاف رکھتے ۔ یوں بھی بادشاہوں کو خود سے زیادہ مقبول افراد سے ایک خوف سا لاحق رہتاکہ کبھی بھی کچھ بھی کر گزریں گے اور اسی خوف کے تحت وہ بلا وجہ اللہ والوں کو ستاتے رہتے ۔ تغلق نے بھی بنگالے کی مہم سے حضرت کو مکتوب بھیجا کہ میرے واپس آنے تک دہلی خالی کر دو ورنہ تمہاری خیر ن۔ حضرت نظام نے اس کو پڑھا اور اس پہ لکھا ‘ہنوزدلی دور است’ اور واپس بھجوا دیا۔ بادشاہ اپنی مہم سے کامران لوٹا اور منزلوں پہ منزلیں مارتا، دہلی کی طرف بڑھا چلا آ رہا تھا۔ جناب محبوب الہیٰ کے خیر خواہ ان کو ہر منزل پہ آ گاہ کرتے کہ اب بادشاہ اتنا قریب آ چکااور اب اتنا۔ مگر حضرت کے اطمینان میں کوئی فرق نہ آیا، ان کا ایک ہی جواب تھا ‘ہنوز دلی دور است’۔ ہوتے ہواتے، بادشاہ افغان پورہ پہنچ گیا جو دہلی سے تین کوس کی مسافت پہ ۔ یہاں ولی عہد نے باپ کے لیے ایک بے حد عالی شان چوبی محل بنوایا تھا۔ بادشاہ اسے دیکھنے میں مصروف تھا۔ ادھر لوگوں نے نظام الدین اولیاء کے پاس غل مچایا کہ اب تو بادشاہ سر پہ آ پہنچااور کوئی دم میں دہلی میں داخل ہونے والا ۔ آ پ نے اسی اطمینان سے فرمایا، ‘ہنوز دلی دور است’۔ عین اسی لمحے وہ عالی شان محل، اپنے سب تام جھام سمیت اڑا اڑا دھم بادشاہ کے سر پہ آ ن گرا۔ بادشاہ کبھی دہلی نہ پہنچ سکا۔ نظام الدین اولیاء کا مزار آ ج بھی مرجع خلائق ۔ تو اب ایساکہ ویزے تو مل ن ر، ہم نے اپنے لفافے پہ ‘ہنوز دلی دور است’ لکھ کے رکھ لیا ۔ سوچتی ہوں ی پاکپتن میں بابا جی کے مزار پہ ڈال آؤں۔ ایسے خطوں کو اپنی منزل پہ پہنچنے کے لیے نہ ویزہ چاہیے ہوتانہ پاسپورٹ، دہلی والے خود پاکپتن آ جاتےاور خط پڑھ لیتے ۔ دہلی ہو یا لاہور، پاکپتن یا اجمیر، یہ کسی کے باپ کی جاگیر ن، یہ تو دل والوں کی بستیاں ۔ ان کو بسانے والے بھی دل والے ہیاور آ ج بھی جو یہ بسی ہوئیتو ان ہی کی وجہ سے بسی ہوئیاور پھر ہمارا دہلی تو بائیس خواجہ کی چوکھٹ ۔دل والوں سے نہ الجھیے ورنہ روتے پھریں گے۔ باز آ ئیے، ان فقیروں کو ویزے جاری کر دیجیے، خدا آ پ کا بھلا کرے گا۔

متعلقہ خبر یں

روزانہ خبریں اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

Leave a Reply