اٹلی میں ایک مسٹر کلاؤ

مس ورلڈ
مس ورلڈ

اٹلی میں ایک مسٹر کلاؤ ایک بڑا سخت قسم کا یہودی تھا۔اس کے پاس کوئی تیرہ چودہ منزلہ عمارت تھی۔صبح جب میں یونیورسٹی جاتا تو وہ وائپر لے کر رات کی بارش کا پانی نکال رہا ہوتا اور فرش پر”ٹاکی” لگا رہا ہوتا تھا،یا سڑک کے کنارے جو پٹڑی ہوتیاسے صاف کر رہا ہوتا۔میں نے اس سے پوچھا کہ آپ ایسا کیوں کرتے ہو؟اتنے بڑے آدمی ہو کر۔اس نے کہا،کام بڑا یا چھوٹا ن ہوتا۔جب میں نے یہ ڈیوٹی لے لیاور میں اس ڈسپلن میں داخل ہو گیا ہوں تو میں یہ کام کروں گا۔ یہ کالم بھی پڑھیں: یہ فلمی کہانی ن، یہ پی کے 554 پرواز

میں نے کہا کہ آپ ایسا کیوں کرتے ہو؟اس نے کہا کہ یہ انبیاء کی صفت ،جو انبیاء کے دائرے میں داخل ہونا چاہا ،وہ چھوٹے کام ضرور کرے،ہم کو یہ نوکری ملی ۔

حضرت موسیٰ علیہ السلام نے بکریاں چرائی تھیں اور ہم یہودیوں میں بکریاں چرانا اور اس سے متعلقہ نچلے لیول کا کام موجودتو ہم خود کو حضرت موسیٰ علیہ السلام کا پیروکار سمجھیں گے۔اس نے کہا:آپ کے نبی ﷺ اپنا جوتا خود گانٹھتے ،قمیض کو پیوند یا ٹانکا خود لگاتے ،کپڑے دھو لیتے ،راستے سے “جھاڑ جھکار :صاف کر دیتے ،تم کرتے ہو؟میں کہنے لگا،مجھے ٹانکا لگانا ن آتا،مجھے سکھایا ن گیا۔وہ آدمی بات بڑی تول کے کرتا تھا۔مجھے کہتا تھا دیکھو اشفاق تم استاد تو بنہو،لیکن بہت سی چیزیں تم ن آتیں۔جب بھی کرو چھوٹا کام شروع کرو۔ یہ کالم بھی پڑھیں: اے اللہ میں ناپاک جنوں نر و مادہ سے تیری پناہ مانگتا ہوں

اب تم لیکچرار ہو کل پروفیسر بن جاؤ گے،تم جب بھی کلاس میں جانا یا جب بھی لوگوں سے خطاب کرنے لگنا یا کسی بہت بڑے مجمع تمہارے سامنے ہو تو کبھی اپنے سامنے بیٹھے ہوئے لوگوں کا مخاطب نہ کرنا۔ہمیشہ اپنی آواز کو دور پیچھے کی طرف پھیکنا۔وہ لوگ جو بڑے شرمیلے ہوتے ،شرمندہ سے جُھکے جُھکے سے ہوتےہمیشہ پچھلی قطاروں میں بیٹھتے ۔آپ کا وصف یہ ہونا چاہیئے کہ آپ اپنی بات ان کے لیے ک۔جب بات چھوٹوں تک پہنچے گی تو بڑوں تک خودبخود پہنچ جائے گی۔ یہ کالم بھی پڑھیں: قربانی کا مسئلہ /شکوک وشبہات کا ازالہ

میں اس کی باتوں کو کبھی ن بھلا سکتا۔جب میں اپنے بابا جی کے پاس آیا تو میں نے کلاؤ کی یہ بات ان بتائی،انہوں نے کہا کہ دیکھ! کچھ ہماری ڈیوٹیاں ہوتی ،مثلاً یہ کہ مجھے سکھایا گیا کہ سوئی میں دھاگہ ڈالنا سیکھو،سبزیاں چھیلنے کی تو میری پریکٹس ہو چکی تھی۔اب بابا جی نے فرمایا کہ سوئی میں دھاگہ ڈالنا سیکھو۔اب یہ بڑا مشکل کام تھا۔میں کبھی ایک آنکھ کو بند کرتا تو کبھی دوسری آنکھ کانی کرتا لیکن اس میں دھاگہ ن ڈالتا تھا یہ کالم بھی پڑھیں: قوم “عاد “

خیر! میں نے ان سے کہا کہ اچھا جی دھاگہ ڈال لیا،اس کا فائدہ”؟کہنے لگے اس کا یہ فائدہکہ تم کسی کا پھٹا ہوا کپڑا کسی کی پھٹی ہوئی پگڑی سی سکتے ہو۔جب تک تم لباس سینے کا فن ن آئے گا،تم انسانوں کو کیسے سیو گے۔تم تو ایسے ہی رہو گے،جیسے لوگ تقریریں کرتے ۔بندہ تو بندے کے ساتھ جُڑے گا ہی ن۔یہ سوئی دھاگے کا فن آنا چاہیے،ہماری مائیں بہنیں بیٹیاں جو لوگوں کو جوڑ کے رکھتی تھیں،وہ یہ چھوٹے چھوٹے کاموں سے کرتی تھیں۔ یہ کالم بھی پڑھیں: مغرب کا مہذب مرد