کلچر اور “لبرل ازم”

gumnam
gumnam

کھانا خود گرم کرلو۔۔یہ لبرل ازم ۔۔ کھانا گرم کرکے لا۔۔۔یہ کلچر ۔۔ آپ رہنے دو میں خود گرم کرلیتا ہوں۔۔یہ دین ۔۔

بیوی کو غلام بنانا۔۔۔یہ کلچر بیوی کا غلام بن جانا۔۔۔یہ لبرل ازم ۔۔ بیوی کو بیوی سمجھنا۔۔۔یہ دین ۔۔

بیوی پر تشدد کرنا۔۔۔یہ کلچر میاں بیوی میں فساد کروانا۔۔یہ لبرل ازم بیوی سے محبت سے پیش آنا۔۔۔یہ دین ۔۔

بیٹی کے پیدا ہونے پہ منہ کالا ہونا۔۔۔یہ کلچر بیٹی کے پیدا ہونے کو روزگار کے مواقع سمجھنا۔۔۔یہ لبرل ازم بیٹی کی پیدائش پر رب کا شکر ادا کرنا۔۔یہ دین ۔۔

لڑکی کو آنکھوں کے پپوٹے نکال کر دیکھنا۔۔یہ کلچر لڑکی کو گھیر کر فرینڈ بنانا۔۔یہ لبرل ازم ۔۔ لڑکی جس حالت میں بھی ہو آنکھیں نیچی کرلینا ۔۔یہ دین ۔۔۔

لڑکی کو مکمل ڈھانپ کر خود دوسروں کی عورتیں دیکھنا ۔۔۔یہ کلچر ۔۔ لڑکی کو کم یا بے لباس کرنا یہ لبرل ازم ۔۔ لڑکی کو پردہ کا پابند کرواکر خود بھی آنکھوں کا پردہ کرنا۔۔۔یہ دین ۔۔

اغلام پرستی کرنا۔۔۔یہ راجہ داہریت سے منسوب کلچر ۔۔ اغلام بننا اور اسکی ترغیب دینا یہ لبرل ازم ۔۔ اغلام پرست کسی بھی شعبے کا ہو اس کی سرکوبی کرنا۔۔۔یہ دین ۔۔

قوم پرستی کرنا۔۔۔یہ کلچر ۔۔ قوم پرستی پہ بھڑکانا۔۔۔یہ لبرل ازم ۔۔ قوم پرستی ختم کرکے سب کو گلے لگانا ۔۔یہ دین

مایوں مہندی دودھ پلائ جوتا چھپائ سے دلہن کو خوش کرنا۔۔۔یہ کلچر ۔۔۔ مایوں مہندی جملہ تہواروں کو مکمل نافذ رکھنا یہ لبرل ازم ۔۔ ان ساری رسومات کا خاتمہ کرکے دلہن دولہا کا اخلاقی رشتہ اور ایک دوسرے کے حقوق پورا کرنا۔۔۔یہ دین ۔۔

ساس جھیٹ دیور دیورانی سسر کا بیوی کو دھونس میں رکھنا۔۔۔یہ کلچر ۔۔ ساس جھیٹ وغیرہ سے بیوی کو لڑوانا۔۔۔یہ لبرل ازم ۔۔ ساس سسر جھیٹ دیور کا دلہن پہ کوئ حکومت نا ہونے کا اعلان ۔۔۔یہ دین ۔۔۔۔

بیوی کو نوکر بناکر رکھنا۔۔یہ کلچر ۔۔ بیوی کا خود کو بیوی نا سمجنا۔۔۔یہ لبرل ازم ۔۔ بیوی کے ساتھ گھر کے کام کروانا۔۔۔یہ دین ۔۔

لوگو غلط کو غلط کہو جو دین ناسے دین مت بنائو برصغیر پاک وہند کے کلچر کو دفن کردو عورت کو غلام سمجھ کر خود کو بادشاہ سمجنا یہ اسلام ن کلچرجو صدیوں سے نافذ ۔۔۔ دین میں مکمل داخل ہو جائو تم لوگوں کی جہالت سے لبرل ازم اور خود سری کو فروغ مل رہا ۔۔۔

کلچر اور “لبرل ازم” کو طلاق دو جہالت سے باہر نکلو

لبرل ازم اور الحاد کے فروغ میں حصہ دار مت بنو.. اتنے اچھے اور مکمل دین کے ھوتے ھوۓ ھمیں کسی کلچر یا لبرل ازم کی کوئی ضرورت ن ..