برمی مسلمان ہیں کون؟ مسئلہ کیا ہے؟

برمی مسلمان ہیں کون؟ مسئلہ کیا ہے؟رما، جس کے شمال میں چین، مشرق میں تھائی لینڈ، شمال مغرب میں بھوٹان، مغرب میں بھارت اور جنوب مغرب میں بنگلہ دیش واقع ہیں، جنوبی ایشیا کا ایک بڑا ملک ہے جس کا سرکاری نام میانمر ہے۔ اس ملک کی اہم بات یہ ہے کہ یہاں “نسلی گروہ-Ethnic Groups) کثرت کے ساتھ آباد ہیں۔ تعداد میں 135 نسلی گروہوں کو برمی حکومت نے اپنا لیا ہے جنہیں ملک کے سات آٹھ مختلف خطوں میں رکھا گیا ہے۔ راخائن اسٹیٹ بھی انہی خطوں کی طرح ایک ریاست ہے جہاں روہینگیائی لوگ آباد ہیں۔ راخائن اسٹیٹ کی آبادی کل برمی آبادی کا ساڑھے پانچ سے سات فیصد ہے۔ جن کی اکثریت مسلمان ہے۔
روہینگیائی لوگوں سے مراد وہ لوگ ہیں جو برما کی ریاست “راخائن” (جس کا پرانا نام اراکان ہے) میں رہتے ہیں ۔ ان لوگوں کا دعویٰ ہے کہ راخائن ریاست نسلوں سے ان کا وطن ہے لیکن برمی حکومت نے ہمیشہ ان کے ساتھ سوتیلی ماں کا سا رویہ اختیار کئے رکھا ہے۔ برمی حکومتوں کے مطابق یہ لوگ برصغیر کے مہاجرین ہیں جو برما میں آ کر آباد ہو گئے تھے۔ یہ لوگ برمی النسل نہیں ہیں اور نہ انہیں برمی حکومت اپنانے کیلئے تیار ہے اس لئے برما انہیں اپنے ملک سے بے دخل کرنے کیلئے ہر سال انتہائی بے دردی سے فوجی آپریشن کرتا ہے۔ 1982ء کے برمی شہری قانون کے مطابق روہنگیائی لوگوں کوبرما کی شہریت حاصل کرنے کا حق نہیں ہے ماسوائے ان لوگوں کے جو برما پر تاج برطانیہ کی حکومت یعنی 1823ء سے پہلے کے آباد ہیں۔ برما میں ان مظلوموں کو آزادی کی تحریک ، اعلیٰ تعلیم، سرکاری نوکری اور کسی طرح کی رعایت کا کوئی حق حاصل نہیں ہے۔
برما کے قائد آزادی ” اونگ سان” کے وعدوں کے برعکس روہنگیائی لوگوں کو بنیادی انسانی حقوق سے بھی محروم رکھاگیا ہے۔ بلکہ 1978ء، 1991-92ء، 2012ء، 2015-17ء میں ان مظلوموں پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑے گئے ہیں۔ ان پر فوجیں مسلط کر کے ان کی ٹوٹی پھوٹی بستیوں کو پھونک ڈالا گیا ہے۔ ہر سال ان لوگوں پر ظلم ایجاد کئے جاتے ہیں، مرد عورت بچوں بوڑھوں مسلح اور نہتے کی تقسیم کے بغیرانہیں قیدی بنایا جاتا ہے، کبھی آتش نمرودمیں جلایا جاتا ہے تو کبھی پانی کی موت مارا جاتا ہے، کبھی زندہ انسانوں کی کھالیں ادھیڑ کر رکھ دی جاتی ہیں تو کبھی ان کی تکہ بوٹی کر دی جاتی ہے۔ خواتین کی عصمت دری تو روزمرہ کا معمول ہے، بچوں کی آنکھیں نکال دی جاتی ہے، انہیں تڑپا تڑپا کرلطف حاصل کیا جاتا ہے اور جسے چاہا، چیر پھاڑ کر رکھ دیا جاتا ہے۔ غرض انہیں ملک سے نکالنے اور ان کی نسل کشی میں نہ تو کوئی لچک رکھی گئی ہے اور نہ رحم کی کوئی اپیل منظور کی گئی ہے۔ وجہ کیا ہے؟ صرف یہ کہ یہ غریب راخائن میں پیدا ہو گئے۔ ہیومن رائٹس واچ کے مطابق روہینگیائی لوگ دنیا کے مظلوم ترین انسان ہیں۔
تاج برطانیہ نے برما پر1948ء تک حکومت کی ہے۔ انگریز دور میں برما ہندوستان کا ایک صوبہ شمار کیا جاتا تھا۔ہندوستانی اقوام یوں تو انگریز حکومت سے پہلے بھی برما کی طرف ہجرت کرتی رہی ہیں لیکن انگریز دور میں ان کی تعداد میں بہت اضافہ ہو گیا تھا یہی وجہ ہے کہ برمی حکومت ان روہینگیائی لوگوں کی شہریت تو قبول کرتی ہے جو انگریز دور سے پہلے کے آباد ہیں لیکن انگریز دور اور بعد ازاں آنے والے کسی بھی مہاجر کو قبول کرنے سے انکاری ہے۔ راخائن اسٹیٹ کے ساتھ بنگال کے تاریخی روابط کئی جہتوں سے ملتے ہیں۔ ان مہاجرین کی بڑی تعداد بنگال ہی سے تعلق رکھتی ہے ۔
تقسیم ہند کے موقع پر روہنگیائی مسلمانوں کے سربراہان قائد اعظم محمد علی جناح سے ملاقات کی اور گزارش کی کہ بنگال کے ساتھ ان کا الحاق کر دیا جائے لیکن قائد نے اپنی مجبوری ظاہر کی اور فرمایا کہ فی الوقت ہمارے لئے ممکن نہیں کہ ہم اپنے مطالبات میں راخائن کو بھی شامل کر سکیں۔
الحاصل یہ کہ کوئی بھی ملک ان مظلوم مسلمانوں کو اپنانے یا ان کی مدد کیلئے تیار نہیں ہے بلکہ اس نسل کشی کو برما کا اندونی معاملہ قرار دے کر خارج از بحث کر دیا جاتا ہے۔ انسانی حقوق کے عالمی اداروں نے اگرچہ روہینگیائی لوگوں کے حق میں زبان کھولی ہے مگر یہ محض دیکھاوے کیلئے ہے، عملی طور پر ان لوگوں کی کوئی مدد نہیں کی گئی کیونکہ یہ لوگ اسلام کے ماننے والے ہیں۔ ظلم تو یہ ہے کہ اسلامی ممالک کی افواج اور سربرابان کے خون بھی سفید ہو چکے ہیں۔ شروع میں بنگال ان لوگوں کو پناہ دیتا رہا ہے لیکن اب معاملہ بنگلہ دیش کی برداشت اور بساط سے بھی باہر ہو چکا ہے اس لئے مزید مہاجرین کو جگہ نہیں دی جا رہی۔ ستم بالائے ستم یہ کہ ایٹمی طاقت پاکستان اور اسلام کا مرکزی ملک سعودی عرب دونوں بھنگ پئے سو رہے ہیں۔ اور کوئی اسلامی ملک ان مظلوموں کی مدد کرے بھی تو کیوں! کیونکہ وطن پرستی کا زمانہ ہے، اپنا وطن ہی سب کچھ ہے ، اپنے وطن کا گند بھی ہمارے سربراہان کی نظر میں پرائے مسلمانوں سے بڑھ کر ہے۔