ا یک غریب مظلوم لڑکی کی فریاد

گمنام
گمنام
دوستو ایک کہانی ھے مگر ھے سچ ” آپ لوگوں اسے ضرور پڑھیں پھر بتائیں کیا یہی انسانیت ھے….؟ دوستو ایک آدمی ھے اس کا روئیہ جو کہ لوگوں کو سخت ناگوار گزارتا تھا.وہ اسلئے کہ ھر آدمی کے ساتھ لڑائی جھگڑا دوسروں کو نیچا دیکھا نا اپنے اسر ا سوخ کی وجہ سے دوسروں پر تہمت لگا کر پھنسا دینا گو کہ اپنے گھروں میں بہن بھائیوں سے بہی اسی طرح کرنا ھر ایک سے ناراضگی اس کا معمول بن گئی ھر ایک درمیان فساد ڈالنا جہاں کوئی دو فریق اپنے بچوں کا رشتہ طے کر رھے ھوں..وھاں فساد ڈالنا ، وقت تیزی سے گزرتا گیا اور آخر اسکے بچے بھی جوان ھو گئے‘ اور اسے اب رشتہ درکار تھا.. گو کے اب اس نے رشتے کی تلاش شروع کی مگر جہاں بہی جاتا. .وھاں سے ہاں کا تو سوال ھی نہیں‘ پیدا ھوتا تھا بالآخر تھک ہار کر 2سال بحد اپنے سوتیلے بہاھی کے گھر جاتا ھے اور اسکی بیٹی کا رشتہ مانگتا ھے..اور وہ جو اسکا بہاھی ھے دونوں ٹانگوں سے معذور ھے..وہ انتہائی غریب بے بس اور بے سہارا انسان ھے اسکی چھے بیٹیاں ھیں شاید اور 3 بیٹے ، بڑا بیٹا شادی شدہ ھے وہ بڑی مشکل سے اپنا اور بچوں کا پیٹ پالتا ھے..باقی ابھی باپ کے زیرکفالت ھیں دوستو بور نہیں‘ ھونا دل کو دہلا دینے والی پوسٹ ھے. گو کہ جس لڑکی کا رشتہ یہ مانگ رھا تھا.وہ طلاق شدہ تھی مگر نو عمر لڑکی تھی. اور دینی مدرسہ سے تعلیم یافتہ ھے.. رشتہ ھو جاتا ھے. لوگوں کی باتیں آپس میں شروع ھو جاتی ھیں.کے اسکے پیچھے بھی اسکی کوئی سیاست ھے.ورنہ یہ کبھی بھی یہ رشتہ نہ کرتا..شادی ھوئی. تین ماہ گزرتے ھیں لڑکی کی حالت خراب سے خراب تر ھو جاتی ھے..وجہ پوچھنے پر کچھ نہیں‘ بتاتی اور بالآخر ایک دن اپنے والدین کے پاس جاتی ھے..اور کہتی ھے میرے اوپر بہت ظلم کرتے ھیں..وہ لوگ کرش کی بوریاں اٹھاو اور پتہ نہیں‘ کیا کیا کام کرواتے ھیں نہ کرنے کی صورت میں سخت سزا دی جاتی ھے. ھاں تو دوستو بات یہاں سے ختم ھوئی کہ کام نہ کرنے کی صورت میں سخت سزا دی جاتی اور جب کرش کی بوری اٹھتی تو راستے میں روکنے کی صورت میں سوئیاں چھبائی جاتی یہ سٹوری دار اصل ایک کہانی ھی نہیں‘ ھماری ھی غریب بہن کی ھے اور یہ ساری سٹوری اسکی زبانی ھی بیان کی گئی ھے ایک لفظ بھی ساتھ نہیں‘ ملایا گیا البتہ کوئی لفظ کوئی قصہ مجھ سے ضرور مس ھو گیا ھو گا..میرے بھائی جو اس سے ملے ھیں انکو بخوبی محلوم ھو گا اسکی زبانی یہ سب باتیں ھوئی کے نہیں‘ اگر کچھ اضافہ کیا ھو تو یا کروں تو آپ کمینٹ میں ضرور کہہ دینا.. ہاں تو یہ بھی بتاتا چلوں کے یہ ظلم کرنے والا اسکا شوہر نہیں‘ وہ تو آرمی میں ملازمت کرتا ھے..ارے آپ لوگ ابھی بھی غلط سمجھے ھو اسکی ساس نے یہ سب نہیں‘ کیا یہ تو اسکا سسر جو اسکا چچا بھی ھے اس نے کیا اتنی سی بات پر حیران نہ ھوں ابھی تو ایسے اس بچی کے الفاظ ھیں جو روح کو کانپا دینے والے انسانیت کو شرما دینے والے. .ھوا کچھ یوں.کے گھر کے کسی کام میں بیچاری لیٹ ھو گئی پانی نہ لا سکی..تو شام کو انکوئری آفس بلایا گیا..جرم ثابت ھو گیا کہ وہ پانی آج نہیں‘ لا سکی. سزا اور جزا کی بات شروع ھو گئی سزا آخر کار مرتب ھوئی کے ھری مرچیں توڑ کر لائی جائیں اور پئیس کر دی جا ہیں‘ دے دی گئیں. اب سسر صاحب نے اپنی بیگم کو بھی طلب کیا اور کہا کہ اسے مضبوطی سے پکڑا جائے..یہاں پر ان صاحب نے انتہائی گھٹیا اور اور انسانیت کے برعکس کام کیا مجھے لکھتے ھوے شرم آتی ھے مگر انکو یہ سب کرتے شرم نہیں‘ آئی گو کہ اسکی شلوار کو کھول دیا. اور شرمگاہ پر مرچیں لگائی گئیں “استغفاراللہ ‘ کوئی مسلمان بلکے انسان ایسا کام نہیں‘ کر پائے گا مگر ان صاحب نے یہ سب کہیا پھر رات کو مزید مار پہیٹ کی گئ اور اسکو ڈرا دھمکا کر خاموش رھنے پر مجبور کر دیا…یہ بھی بتاتا چلوں یہ صاحب آرمی میں ایف.آئی.یو.میں بھی رہ چکے ھیں. .گو کہ بچی کو مار پہیٹ کے بعد کہا گیا کہ تم اپنے والدین کے پاس جاو اور کوئی اس موضوع پر بات مت کرنا ایک دن رک کر واپس آو بلکے میں فون کروں گا تو اسی وقت آ جانا. تو جناب نے یہ کہہ کر اسے روانہ کر دیا اور
وہ بھاگی بھاگی اپنے والدین کے گھر پہنچی گھر والوں سے ملی ڈاری ھوئی سمی سی انہوں نے پوچھا کیا بات ھے کہنے لگی کچھ نہیں‘. .سب نے پوچھا مگر اس کو وہ سب منظر یاد آرھا تھا تو وہ چپ ھی رھی اور خاموشی میں اپنی عافیت سمجھی
مگر ایک خوف اسکے سر پر منڈلا رھا تھا کہ مجھے واپسی جانا ھے اسکی چھوٹی بہن اسکے پاس آتی ھے اور پوچھتی ھے کیا محاملہ ھے.تم کیوں پرشان ھو..اس نے آخرکار چپ کی رسی کو توڑا اور اسکو بولا کسی کو بتانا مت میرے ساتھ یہ یہ ظلم ھوتا ھے جو پیچھے آپ لوگوں کی نظر کر چکا ھوں.بتایا اسکی بہن نے اسے چپ کرواتے ھوئے بولا کہ اتنا کچھ ھوا تم نے اپنے شوہر کو نہیں‘ بتایا..تو وہ کہنے لگی کیسے بتاوں وہ تو مجھ سے بات تک نہیں‘ کرتا..کیوں؟ بولی محلوم نہیں‘. .ب.کیا اسکو پتہ ھی نہیں‘. . اور
پتہ ھے جب میں پانی نہ لا سکی تو میرے سسر نے میرے شوہر کو فون کیا مجھے پاس کھڑا کر کے .کے سنو وہ کہنے لگا ابو آپ جانو اور وہ جانے امی جانے اور وہ جانے. .میں نے نہیں‘ لائی ..آپ لائے ھو اپنے لیے اور امی کیلئے. مارو اسکو کام نہیں‘ کرتی تو کس کام کی…میں تو شادی اور کروں گا.اور بھی بہت کچھ کہا…بہن..اب تم نہیں‘ جانا میں امی کو اور ابو کو بتاتی ھوں نا ہیں‘ کسی کو مت بتانا وہ جان سے مار دیں گے وہ مجھے بول بھی رہے‘ تھے‘. .اگر کسی کو بتایا تو جان سے مار دوں گا…فون آتا ھے اور وہ واپسی ڈاری ھوئی سمی ھوئی واپس جاتی ھے..ایک دن گزرتا ھے….دوسرا دن شروع ھوا وھی روٹین کے مطابق کام اور تشدد دن گزر گیا شام ھوئی ..لڑکی کو بلایا
گیا…کام ختم کرو اور تم میرے کمرے میں آو….میں نے کوئی باتیں سنی ھیں..وہ تم سے پوچھنی ھیں..باقی تمام گھر والوں کو کہا تم لوگ اپنے کمرے میں سو جاو…ساتھ کچا گھر ھے وہ لوگ ادھر ھی سوتے ھیں اسکو بلایا وہ بیچاری آئی اور چارپائی پر بیٹھتی ھے..اور اسکا سسر اسکو کھڑا ھونے کو کہتا ھے..یہاں پر پھر میں آپکو یاد دلاتا چلوں کے اس کا سسر اس کا چچا بھی ھے.رشتے میں. .وہ کھڑی ھوتی ھے اسکو کہتا ھے ڈانس کرو…یہاں پر یہ بھی یاد دلاتا چلوں کہ لڑکی مدرسے سے تعلیم یافتہ ھے. .وہ حیران ھوئی..پھر انکار ھوئی..مگر اس ظالم درندہ صفت انسان کی انسانیت حیوانیت میں بدل گئی..اور اسکو کہنے لگا…میں تمہیں‘ ماروں گا نہیں‘ آج پیار کریں گے.مجھے لکھتے ھوے شرم آتی ھے. .کیا لکھوں. ..خدا کی قسم یہاں پہنچ کر میرا قلم میرا دماغ بند ھو جاتا ھے کیا لکھوں کیسے لکھوں بہرحال زیادہ تر لوگوں نے تو سن لیا ھے…مگر مجھ سے یہاں مضمون نہیں‘ بن رھا سیدھے لفظوں میں لکھتا ھوں..خبیث اسکو کہتا ھے میں تم سے زناء کرنا چاھتا ھوں…لڑکی کے تو چند سکینڈوں کیلئے ھوش ھی اڑ گئے‘ کہ میرا چچا میرا سسر کیا کہہ رھا ھے.. گو کے اگلے ھی لمحے اس درندہ صفت نے اپنی بیٹی جو کے بہئو کے روپ میں تھی اسکا ریپ کر ڈالا اور ساری رات اپنی ھوس کی آگ بجھاتا رھا صبح 5بجے اسکو ھی لات مار کر اٹھاتا ھے اور کہتا ھے جاو پانی پر پائپ لگا کر آو نہائیں گے..لڑکی وھاں سے نکلتی ھے اور صبح 5بجے اپنے والدین کے گھر پہنچتی ھے اور اپنی کہانی سناتی ھے ابھی ختم نہیں‘ ھوئی ظلم اور بربریت جو لڑکی پر ھوئی اس سے قبل وہ ساری آپکی نظر کر چکا ھوں.
جو اب انکو پرشان کیا جا رھا ھے. اس پر ھو گی اب آپ لوگ بتائیں ایسے آدمی کیساتھ کیا ھونا..چاھیے. ؟کیا یہ ھمارے معاشرے میں رہنے کا حقدار ھے..کیا یہ ھماری خوشی غمی میں شریک ھونے کا حقدار ھے. ..اور بھی بہت سارے سوال ھیں جو میں کمینٹ میں آپ لوگوں سے کروں گا. تو دوستوں آج جھمہ کی نماز کے بعد مورخہ 11 اگست
برادری کا جرگہ تھا جب بات جرگہ کے سامنے آہی تو ملزم جو انتھاہی شاطر اور مکار ہے‘
صاف انکار ھو گیا اور لڑکی کو جھوٹا کرنے کے لیا
اس درندہ
نے اس
لڑکی
سے زبر دستی جھوٹا
بیان ریکارڈ کروا کر اپنے پاس رکھا ھوا تھا
کہ اس لڑکی
کے ایک حافظ صاحب کے ساتھ ناجاہز
تہلقات تھے‘ جو ایک سال
پہلے حافظ صاحب فوت ھو چکے تھے‘ اور گھر
سے چوریاں بھی کرتی
تھی ۔لڑکی اور اس کے گھر والوں کو اس قدر ڈرایا دھمکایا ہوا ہے‘ کہ اگر کسی کو بتایا تو
جان سے مار دوں گا اس لیا مظلومہ پولیس تک جا کر شکایات بی نہیں‘ کر سکی اور نہ ہی جرگہ
والوں نے لڑکی سے تصدیق کی تو اس درندے نے ریکارڈنگ جرگہ میں سب کو سنائی جس پر
برادری کے لوگوں نے لڑکی کو طلاق دلوا دی اور وہ درندہ
اب بھی سینہ تان کر گھوم رھا ہے‘








درندہ
کا نام : عبدا لرؤف والد فیض عالم خان ہے‘ جو کہ
بنگو ہیں‘ کا رہنے والا ہے‘


مظلومہ لڑکی کہ والد کا نام
عبدا لخالق والد فیض عالم خان ہے‘










راولاکوٹ
آزاد کشمیر

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here