سعد رفیق کون ہے

گمنام
گمنام
saad rafiq
saad rafiq
سعد رفیق کون ہے‘ ؟ جس سعد رفیق نے تباہ حال ریلوے کو دوبارہ اپنے پاؤ پر کھڑا کیا سنو وہ سعد رفیق کون ہے‘ ۔ سُن سکتے ہیں‘ تو سُنئیے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ! اس کا باپ صرف بیس سال کا تھا جب پاکستان بنا لیکن خون میں غیرت جرات اور ہمت تھی ایک توڑے دار بندوق اور صرف ایک چاقو کی مدد سے اس نے پانچ اغواء شدہ حافظ قران لڑکیوں کو سکھوں کے چنگل سے چھڑا لیا۔ فرنٹئر فورس کے ایک کپتان کی جان بچائی۔ ایوبی آمریت کے خلاف اس کے باپ نے اس وقت آواز اُٹھائی جب کوئی آواز اُٹھانے والا نہ تھا۔ اس کے الفاظ آج بھی موچی دروازہ کے جلسہ گاہ کو یاد ہیں‘ اُس نے کہا “ایوب خان سنو! یہ ملک تمہاری جاگیر نہیں‘ ہے‘ ہم نے اپنے خون اور پیاروں کی قربانی دے کر یہ مُلک لیا ہے۔
تم غاصب ہو تم نے یہ آزادی چھین لی ہے‘ یاد رکھو میں تمہیں‘ سکون سے حکومت نہیں‘ کرنے دوں گا تب تک لڑوں گا جب تک یہ آزادی واپس نہ لے لوں“ پھر تاریخ نے دیکھا کہ اس کا گھر بطل حُریت مولانا عبدالستار خان نیازی کی محفوظ پناہ گاہ بن گیا۔ اس کے باپ نے یحیٰی خان کی فرعونیت کو للکارا لیکن اکہتر کی جنگ میں اس کا باپ رضاکار لے کر فوج کی مدد کرتا رہا۔ وقت بدلا بھٹو کا عہد آیا لیکن اس کا باپ سماج کا وکیل تھا اس نے بھٹو کی قوت سے لڑنے راستہ اپنایا تشدد جیل اور موت کی دھمکیاں اس کا راستہ نہ روک سکیں۔ پھر ایک دن اس نے اپنی زندگی کا آخری خطاب ان الفاظ کے ساتھ کیا۔ “میں امام حسین کے رستے پر چلوں گا۔ مُجھے قتل کی دھمکیاں دینے والو میں موت کے خوف سے اپنا اصولی راستہ نہیں‘ چھوڑ سکتا۔ تمہارا پیغام تمہارے اپنے خوف کو ظاہر کرتا ہے۔
لیکن مُجھے موت کی دھمکیاں دینے والو سُنو، میں سچ کا راستہ نہیں‘ چھوڑوں گا۔ میں اپنا ایمان نہیں‘ بیچوں گا، ہاں تم مُجھے میدان جنگ میں مرتا تو دیکھ سکتے ہو لیکن میدان سے بھاگتا نہیں۔
“ پھر آسمان گواہ ہے‘ ایف ایس ایف کے غنڈوں کی فائرنگ سے جب اُس کے باپ کو شہید کیا گیا تو چھلنی جسم کے ساتھ بھی وہ بھاگنے والوں میں سے نہیں‘ تھا۔ اس کی ماں نے اس بھوک افلاس فاقے دیکھے لیکن اُسے باپ بن کر پالا اس باکردار ماں نے بچوں کی ایسے تربیت کی کہ تین دن تک فاقے کیئے لیکن ہاتھ نہ پھیلایا۔ پھر وقت اور شام سحر بدلے۔ حکومتیں آئیں اور گئیں کہ مشرف جسے ہمارے کل کے بچے “سر مشرف“ بُلاتے ہیں‘ اس کا “سنہرا دور“ آ گیا اُسے گرفتار کر لیا گیا مسئلہ یہ تھا کہ کرپشن کا تو کوئی جھوٹا کیس بنانے کا بھی بہانہ نہ ملا تو “غداری“ کا “سچا“ کیس بنا دیا گیا۔ اس کو گرفتار کر لیا گیا اس غدار کو کہا گیا “سر مشرف“ کا ساتھ دو تم غدار نہیں‘ رہو گے۔ (ویسے سوال یہ بھی ہے‘ کہ ایک محب وطن جرنل نے غدار کو ساتھ ملا کر کیا کرنا تھا) اس نے انکار کر دیا۔ کمانڈو “سر مشرف“ کی انا کو ٹھیس پہنچ گئی اور اُس کی گردن جھکانے کا فیصلہ کیا یہ “سر مشرف“ کی ضد تھی۔ اس کی حاملہ بیوی کو برف کی سلوں پر لٹایا گیا اور اس کو کہا گیا ہاں معافی مانگتے ہو۔ اس نے حاملہ بیوی سے پوچھا تو تکلیف کی شدت میں چور اس غیرت مند عورت نے کہا میں اپنے شوہر کا جُھکا سر دیکھنے سے مرنا بہتر سمجھتی ہوں یہ “سر مشرف“ کے منہ پر پاخانہ سے لتھڑا جوتا تھا۔ لیکن “سر مشرف“ کہاں ہار ماننے والے تھے۔
“سر مشرف“ نے اس کی ماں کو اذیت دے کر اس کی گردن کو جھکانے کا فیصلہ کر لیا۔ لیکن گرفتاری کے وقت اس کی ماں نے کہا تھا “پُتر یاد رکھیں توں خواجہ محمد رفیق دا پُتر ایں جے معافی منگی تے گھر نہ آویں“ مائیں تو سانجھی ہوتی ہیں۔
لیکن سر مشرف نے اس ماں کو نظربند کر دیا۔ ماں تو پھر ماں ہوتی ہے‘ روز ایک “نامعلوم“ کال پر اُس کی آوازیں ماں کو سُنائی جاتیں۔ لیکن یہ کالیں بھی اس کی ماں کی غیرت کو نہ توڑ سکیں۔ “سر مشرف“ جان گئے‘ کہ بس ماں اب مر جائے گی۔ ایک خوفناک کھیل “سر مشرف“ کے دماغ میں آیا۔ اچانک اُس کی ضمانت کر دی گئی کہ ماں سے مل لے۔ یہ خبر اس کی ماں کو ملی تو آخری سانسیں لیتی اُس کی ماں جیسے پھر سے زندہ ہو گئی اب ضمانت اور اسپتال جانے تک کے دوران چھ گھنٹے لگے جس میں اس کی ماں کے جذبات سے بدترین انداز میں کھیلا گیا۔ کبھی خبر چلائی جاتی کہ وہ آرہا ہے‘ کبھی خبر کہ اس کی ضمانت منسوخ کر دی گئی ہے۔
ماں کا زخم زخم دل اس کھیل کا متحمل نہ ہو سکا اور عین اس لمحے جب وہ اپنی ماں کے سرہانے پہنچا اس کی ماں نے آخری ہچکی لی۔ “پھر اس کے بعد چراغوں میں روشنی نہ رہی“ اس سے میری بالمشافہ صرف دو ہی ملاقاتیں ہیں‘ مُجھے یقین ہے‘ کہ وہ مُجھے جانتا بھی نہیں‘ ہو گا۔ ایک مُلاقات اس کے گھر پر جب عمران خان کو روپوش کروانے کے لیئے میں نے اُسے ایک حکومتی ایم پی اے کی گاڑی کا اہتمام کرنے کا کہنے گیا تھا اور دوسرا جب ناموس رسالت کے لیئے جلوس نکالنے پر وہ گرفتار ہوا۔ لیکن آج جب کل کے لونڈے اور بچے مُجھے سعد رفیق کو گالیاں دیتے نظر آتے ہیں‘ تو دل چاہتا ہے‘ کہ ان کی “صاف چلی شفاف چلی “ کے بے حیاء بدن کو اس سچے کھرے سیاسی کارکن کے سامنے نامہ اعمال لیکر کھڑے ہونے کا چیلنج دوں۔ مگر جانتا ہوں “سر مشرف“ اور “سر عمران خان“ کی محبت کے سامنے میری کسی دلیل کی اہمیت نہیں۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here