مغرب کا مہذب مرد

گمنام
گمنام
gumnam
gumnam
روس کی رہنے والی ایک آرٹسٹ مارینا 1979 میں ایک سوشل ایکسپیریمنٹ کا حصہ بنی۔ مشہور زمانہ اس تجربے کو Rythm 0 کا نام دیا گیا، جس میں مارینا نے خود کو بطور ایک آبجیکٹ کے پیش کیا اور ایک گیلری میں کھڑی ہوگئی۔ اُس نے خود کو مکمل طور پر آنے جانے والوں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا کہ دیکھا جائے لوگوں کا رویہ کیسا ہے۔
چھ گھنٹوں کے لئے وہ وہاں کھڑی رہی جبکہ قریب ایک میز پر بہتر مختلف قسم کی چیزیں رکھ دی گئی جن میں کیل کانٹے اور زنجیر سے لے کر قینچیوں اور ایک گن تک سب کچھ شامل تھا۔ ساتھ پھول، پتے اور چھوٹی چھوٹی شاخیں بھی رکھ دی گئیں۔ گیلری میں آنے جانے والوں کو کھلی چھوٹ دی گئی کہ جس طرح چاہیں‘ ان چیزوں اور مارینا کے جسم کو استعمال کرسکتے ہیں۔
شروع میں لوگوں کا رویہ بہتر رہا، کچھ لوگوں نے پھول اُٹھا کر اُس کے ہاتھوں میں دئے اور کیک وغیرہ کھلائے۔ لیکن پھر آہستہ آہستہ لوگوں کا رویہ بد سے بدتر اور جارحانہ ہوتا گیا۔ پہلے قینچیوں سے اُس کا لباس تار تار کیا گیا۔ پھر کچھ لوگوں نے اُس کے جسم میں چاقو چبھونا شروع کیا۔ ایک شخص نے اُس کے گردن میں چاقو چبھو کر خون نکالا اور منہ لگا کر پی لیا۔ ایک اور شخص نے گردن کے زخم پر دانتوں سے کاٹا اور وہ بھی خون پی گیا۔ ایک اور نے گن لوڈ کرکے اُس پر تان لیا۔ لوگوں نے مختلف قسم کے نازیبا حرکات شروع کئے، یہاں تک کہ ایک شخص نے اُس کو ریپ کرنے کی بھی کوشش کی۔ مارینا نے اس صورتحال کو الفاظ میں یوں بیان کیا۔ “ان سب سے جو میں نے سیکھا وہ یہ ہے‘ کہ اگر آپ خود کو لوگوں کے حوالے کردیں، تو وہ آپ کو مار بھی سکتے ہیں۔
میں نے شدید اذیت محسوس کی۔۔۔۔” چھ گھنٹے بعد آرٹ گیلری کے منتظمین نے اس پرفارمنس کے ختم ہونے کا اعلان کیا۔ اُس وقت مارینا جسم پر خون اور آنکھوں میں آنسؤوں کے ساتھ ایک انسان کے جون میں لوگوں کے سامنے آئ تو لوگ منہ چھپانے اور بھاگنے لگے۔ یہ تو صرف ایک تجربہ تھا، عملی زندگی میں بھی مغربی معاشرے کے لوگوں کے اندر کا حیوان جہاں موقع ملے جاگ جاتا ہے۔
اُن کی حیوانیت کا سب سے زیادہ شکار دوسری نسلوں سے تعلق رکھنے والے لوگ اور بالخصوص مسلمان ہوتے ہیں۔
نسلی منافرت سب سے زیادہ انہی معاشروں میں پائ جاتی ہے‘ جبکہ خواتین کے حقوق کے ان ٹھیکیدار وں کا اپنا حال یہ ہے‘ کہ خواتین پر تشدد اور مختلف شکلوں میں اُن کا استحصال وہاں ایک بھیانک شکل اختیار کرتا جا رہا ہے۔
تمام تر جنسی آزادیوں کے باوجود بھی ریپ اور گینگ ریپ کی شرح خوفناک حدوں کو چھو رہی ہے‘ اور خواتین دن بدن غیر محفوظ ہوتی جا رہی ہیں۔
یہ اُن لوگوں کے لئے ایک آئینہ ہے‘ جو عورتوں کے حقوق کے نام پر اُن کو پردے سے آزاد کردینے کا نعرہ بلند کرتے ہیں‘ اور نتیجتاً وقوع پذیر ہونے والی خرابیوں کا ذمہ دار صرف مرد کی آنکھ کو قرار دیتے ہیں۔
ستم ظریفی دیکھئے، طعنہ دیتے ہوئے مثال بھی اِسی مغربی حیوان کی دیتے ہیں۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here