11 ستمبر 1948

گمنام
گمنام
11 ستمبر 1948 کا دن پاکستانی تاریخ میں بہت اہمیت رکھتا ہے‘. اس دن جو ہمارا نقصان ہوا اس کا ازالہ آج تک نہیں‘ اور شاید کبھی ہو گا بھی نہیں‘. آج کے دن ایک عظیم شخصیت اپنا عظیم فریضہ انجام دینے کے بعد اپنے خالقِ حقیقی سے جا ملی۔ 20 صدی کی عظیم ترین شخصیت میں قائد اعظم کا شمار ہوتا ہے‘. قائد اعظم آج ہی کے دن 1948 میں دُنیا سے کوچ کر گئے‘۔ قائداعظم نے علیحدہ مسلم وطن کا ایک سفر شروع کیا انگریز ہندو اور ان کے حلیف قائد اعظم کو دیوانہ سمجھتے رہے‘ کہ یہ کیا کر لے گا ایک دن لڑ تھک کے ہار جائے گا اور وہ دیوانہ دیوانہ ہی نکلا وہ دیوانہ نہ ہارا نہ جھکا نہ بکا اُس کی دیوانگی نے ساری دُنیا کو اُس کے سامنے جھکا دیا۔ انہوں نے ایک ایسا قافلہ تیار کیا جس قافلے نے تن من دھن کی بازی لگا کر ایک الگ اسلامی مملکت کے خواب کو حقیقت بنا دیا. آج ہم اُسی عظیم شخصیت کی انتھک کوششوں کی بدولت ایک آزاد فضاء میں سانس لے رہے‘ ہیں‘. ان کو سیکولر کہنے والے وہ لوگ ہیں‘ جو خود زندگی میں کچھ نہیں‘ کر سکے اور ان سے حسد کی وجہ سے ان پر بھونک رہے‘ ہیں‘. ہم لائیں ہیں‘ طوفان سے کشتی نکال کر اس ملک کو رکھنا میرے بچو سنبھال کر افسوس صد افسوس کہ قائد اعظم کی وفات کے ساتھ ہی ہم نے ان کے قول و فعل کو پس پشت ڈال کر ان لوگوں کے پیچھے ہو لیے جن سے ہم نے آزادی حاصل کی تھی. یہ آزادی ہم نے مفت میں حاصل نہیں‘ اس آزادی کے لئے ہمارے لاکھوں افراد کو شہید کیا گیا. اس آزادی کے لئے ہماری لاکھوں بہنوں بیٹیوں کی حرمتوں کو پامال کیا گیا تب کہیں‘ جا کر ہمیں آزادی ملی تھی. اس آزادی کی قدر کرو ہمارے بزرگوں نے اس آزادی کی بہت بڑی قیمت ادا کی ہے‘. بابائے قوم نے فرمایا تھا کہ اکثر لوگ مجھ سے پوچھتے ہیں‘ کہ پاکستان کا نظام حکومت کیسا ہو گا تو میں ان سے کہتا ہوں کہ پاکستان کا نظام حکومت بنانے والا میں کون ہوتا ہوں اس کا نظام حکومت تو آج سے تیرہ سو سال پہلے ہی قرآن و حدیث کی شکل میں واضع کیا جا چکا ہے‘. دوسری جگہ فرماتے ہیں‘ کہ ہم نے اس ملک کا مطالبہ زمین کا ایک ٹکڑا حاصل کرنے کے لیے نہیں‘ کیا بلکہ ہم ایسی ریاست چاہتے ہیں‘ جہاں ہم اسلام کے اصولوں کے مطابق اپنی زندگیاں گزار سکیں. بقول اقبال میر عرب کو آئی ٹھنڈی ہوا جہاں سے میرا وطن وہی ہے‘ میرا وطن وہی ہے‘ پاکستان کو کلمہ طیبہ کی بنیاد پر حاصل کیا گیا تھا. اس ملک نے آگے چل کر عالم اسلام کی قیادت کرنی تھی لیکن آزادی کے ان سرفروشوں کے بعد یہ ملک کھوٹے سکوں کے قبضے میں آ گیا. یہ کھوٹے سکے وہی ہیں‘ جو قیام پاکستان سے قبل پاکستان کی بھرپور مخالفت کر رہے‘ تھے‘ اور آزادی کے مجاہدین کو روپوں پیسوں کی خاطر اپنے انگریز آقا کے ہاتھوں شہید کرواتے تھے‘. اگر آپ کو میری بات پر یقین نہ آئے تو پاکستان کے موجودہ سیاستدانوں کی تاریخ پڑھ لیجیے آپ کو تسلی ہو جائے گی. ان کھوٹے سکوں نے اس ملک کو اپنے ذاتی مفادات کے لیے انہی لوگوں کے ہاتھوں بیچ دیا ہے‘ جن سے ہمارے بزرگوار نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر کے آزادی حاصل کی تھی. نہیں‘ ہے‘ نا امید اقبال اپنی کشت ویراں سے ذرا نم ہو تو یہ مٹی بڑی زرخیز ہے‘ ساقی واقعی یہ مٹی بڑی زرخیز ہے‘. اس ملک میں ہر چیز کی فراوانی ہے‘ بس اگر کمی ہے‘ تو فقط مخلص قیادت کی کمی ہے‘ اور اس کے لیے کسی نے باہر سے نہیں‘ آنا بلکہ ہم نے اپنی مدد آپ کے تحت ہی سب کچھ کرنا پڑے گا. حجاج بن یوسف نے اپنی بیٹی کی بازیابی کے لئے سترہ سالہ محمد بن قاسم کو نہیں‘ بھیجا تھا بلکہ وہ بیٹی امت مسلمہ کی بیٹی تھی. موسی بن نصیر نے جس بیٹی کی عزت کا بدلہ لینے کے لئے طارق بن زیاد کو اندلس پر چڑھائی کا کہا تھا وہ موسی بن نصیر کی اپنی بیٹی نہیں‘ بلکہ ایک عیسائی گورنر کی بیٹی تھی. آج ہماری آنکھوں کے سامنے ہماری خواتین کی حرمت کو پامال کیا جا رہا ہے‘ اور ہم اپنی اپنی زندگی میں مست ہیں‘. آج اکثر اسلامی ملکوں میں ہمارے سامنے لاکھوں کڑوروں مسلمان بھائیوں کو شہید کیا جا رہا ہے‘ لیکن ہم ہاتھ پر ہاتھ رکھے کسی مسیحا کا انتظار کر رہے‘ ہیں‘. اگر آج ہم خواب غفلت سے نہ جاگے تو تاریخ ہمیں کبھی معاف نہیں‘ کرے گی. جس طرح ساری طاغوتی طاقتیں اکٹھی ہو کر مسلمانان عالم کے خلاف نبرد آزما ہو چکی ہیں‘ اسی طرح ہم مسلمانوں کو متحد ہونا بھی وقت کی ضرورت ہے‘. ایک ہوں مسلم حرم کی پاسبانی کے لیے نیل کے ساحل سے لے کر تابخاک کاشغر لکھنے کو تو اس موضوع پر بہت کچھ لکھا جا سکتا ہے‘ لیکن عمل کے بغیر کوئی فائدہ نہیں‘. ہم کو پڑھنے اور لکھنے کی حد تک ہی محدود نہیں‘ رہنا بلکہ اب عملی طور پر متحرک ہونے کی ضرورت ہے‘. آخر میں رب ذوالجلال سے دعا ہے‘ کہ وہ ہمیں اسلام کے مطابق عملی زندگی گزارنے کی توفیق عطا فرمائے . آمین ثم آمین

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here