چقندر کا جوس دل کے مریضوں کے لیے اکسیر قرار

چقندر کا جوس
چقندر کا جوس

چقندر کا رس بلڈ پریشر کو قابو میں رکھنے اور دل کو قوت فراہم
کرنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔

واشنگٹن: ماہرین طب نے کہا ہے کہ
اگر آپ ذیابیطس کے شکار نہیں تو چقندر کا رس نہ صرف بلڈ پریشر
قابو میں رکھتا ہے بلکہ یہ دل کے پٹھوں کو فوری طور پر طاقت فراہم
کرتا ہے۔

کارڈیک فیلیئر نامی جرنل میں شائع ایک تحقیقی رپورٹ میں انڈیانا
یونیورسٹی کے ماہرین نے انکشاف کیا ہے کہ ہارٹ فیل ہونے کے بعد
زندہ بچ جانے والے مریضوں میں بھی چقندر کا رس بہت مفید ثابت ہوا
ہے، دل کے دورے کے بعد دل کمزور ہوجاتا ہے اور پورے جسم میں خون
پمپ نہیں کرپاتا جس سے طرح طرح کے مسائل جنم لیتے ہیں، اس صورتحال
میں چقندر کا جوس ایک نعمت کے طور پر دل کو تندرست رکھنے میں مدد
دیتا ہے۔

تحقیق کے مطابق ہارٹ فیل کے عمل میں دل کی قوت اور کارکردگی
ڈرامائی طور پر شدید متاثر ہوتی ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ اس صورت
میں دل ری ایکٹو آکسیجن بناتا ہے اور نائٹرک آکسائیڈ  کی
پیداوار کم ہوجاتی ہے جس کے نتیجے میں دل کے سکڑنے اور پھیلنے کی
صلاحیت متاثر ہوتی ہے۔ اس سے مریض کے ہاتھ اور پیروں میں سوجن،
غنودگی اور دیگر عوارض جنم لیتے ہیں۔

چقندر میں موجود نائٹرک آکسائیڈ دل کے افعال کو منظم رکھتا ہے
اور دل کے پٹھوں اور عضلات کو قوت دیتا ہے۔ اس سے قبل ماہرین نے
سائیکلسٹ اور دوڑنے والے کھلاڑیوں پر چقندر کے رس کے تجربات کے
بعد کہا تھا کہ اس سے دل مضبوط ہوتا ہے اور ان کی صلاحیت بتدریج
بہتر ہوتی ہے۔

Leave a Reply