چوہے ٹی بی کی بو سونگھنے کی بہترین صلاحیت رکھتے ہیں

کرائسٹومس اینسورگائے نامی چو مریضوں میں ٹی بی کی شناخت کرسکتے ۔ تنزانیہ: ایک نئی تحقیق سے معلوم ہواکہ عام ٹیسٹ کے مقابلے میں چو بچوں میں ٹی بی کی 70 فیصد درستگی تک شناخت کی صلاحیت رکھتے ۔ تنزانیہ میں واقع موروگورو زراعتی یونیورسٹی کے ماہرین نے چوہوں کو خاص تربیت فراہم کیجس کے ذریعے بچوں میں ٹی بی کا اندازہ لگایا جاسکتاجب کہ اس کی تحقیقات جرنل آف پیڈریاٹک ریسرچ میں شائع ہوئی ۔ تحقیق کے مطابق ٹی بی کے مریض خاص قسم کی بو خارج کرتے ہی جن عام ٹیسٹ کے ذریعے نظر انداز کردیا جاتالیکن چو اسے شناخت کرسکتے ۔ ماہرین کے مطابق غریب افریقی ممالک میں جدید لیبارٹریاں موجود ن اور اس تناظر میں چو مرض کی شناخت میں اہم کردار ادا کرسکتے ۔ اس خبر کو بھی پڑھیں : دوران پرواز خاتون نے شوہر کی ٹھکائی کردی، طیارے کی ہنگامی لینڈنگ سائنسی ٹیم کے سربراہ جورجیئس مگودے کا کہناکہ بہت سے بچوں میں بیکٹیریا کی سطح پر مرض کی شناخت ن ہوپاتی اور اسی وجہ سے ان کے علاج میں تاخیر ہوتی ۔ اسی لیے غریب اور پسماندہ ممالک میں بچوں میں ٹی بی کی شناخت کا ایک قابلِ اعتماد اور کم خرچ طریقے کی ضرورت محسوس کی جارہی تھی جو اب چوہوں کی صورت میں موجود ۔ اس خبر کو بھی پڑھیں : شیر خوار بچوں میں تیزابیت کی اصل وجہ ماں جورجیئس مگودے کے مطابق چو 68 سے 70 فیصد ٹی بی کے کیسز کامیابی سے شناخت کرچکے ۔ اس کے لیے افریقا کے بڑے چوہوں کی ایک قسم کرائسٹومس اینسور گائے میں یہ خاصیت پائی جاتیکہ وہ مائیکو بیکٹیریئم ٹیوبر کلوسس کے سالمات کی خاص بو کو پہچان سکتے ۔ تجربے کے لیے جورجیئس اور ان کے ساتھیوں نے 5 سال سے کم عمر کے 982 بچوں کے تھوک کے نمونے لیے اور پہلے ان تنزانیہ کے بہترین اسپتالوں میں خردبین سے دیکھا تو 34 بچے ٹی بی کے شکار نکلے۔ اس کے بعد چوہوں کی باری آئی تو انہوں نے مزید 57 بچوں میں یہ مرض شناخت کرلیا جو 68 فیصد زائد تھا۔ اس طرح ان کی درست شناخت کی شرح 70 فیصد تک نوٹ کی گئی جو بہت ہی حوصلہ افزا ۔ عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے مطابق تپِ دق (ٹی بی) اب بھی دنیا میں جان لیوا 10 بڑے امراض میں سے ایکاور اس نے غریب ممالک میں اپنے پنجے گاڑھ رکھتے ۔ ان ممالک میں چین، انڈونیشیا، پاکستان، بھارت، نائجیریا اور فلپائن سرِ فہرست ۔ ہر سال 10 لاکھ بچے اس سے متاثر ہوتےجن میں سے ڈھائی لاکھ موت کے منہ میں چلے جاتے ۔

متعلقہ خبر یں

روزانہ خبریں اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

Leave a Reply