پرسکون نیند کے لیے دفتر کا کام دفتر میں ہی چھوڑ آئیں

اگر آپ پرسکون نیند چاہتےتو دفتر کا کام گھر پر کرنے کی عادت کو خیرباد کہ دیں نیویارک: اگرآپ دفتر کا کام گھر لانے کے عادیتو آپ اس بوجھ کو لارجس میں وہ ذہنی تناؤ پوشیدہجو آپ کو چین سے سونے بھی ن دے گا یہ بھی پڑھیں: ۔سماجی رابطوں میں کمزوری صحت خراب کرتی ، تحقیق اپنی نیند اور خوشگوار زندگی کے لیے دفتر کا کام گھر پر کرنے سے گریز کریں کیونکہ گھر پر کام لانے کے عادی افراد ملازمت کا سوئچ آف ن کرتے اور یوں وہ گھر میں بھی دباؤ کی کیفیت میں ہوتے ۔ اب ماہرین نے خبردار کیاکہ گھر پر دفتری امور نمٹانے کی عادت کے برے اثرات کئی برس تک برقرار رہتے ۔ امریکا میں واقع اوکلینڈ اور پورٹ لینڈ یونیورسٹی نے امریکی محکمہ زراعت کے تعاون سے ایک اہم سروے کیاجس کی تفصیل ’جرنل آف آکیوپیشنل ہیلتھ سائیکالوجی‘ میں شائع ہوئی ۔ سروے سے انکشاف ہواکہ جو ملازم اور افسران دفتری اوقات کا کام گھروں میں کرتےوہ فوری طور پر بے خوابی کے شکار ہوجاتے ۔ تحقیقی سروے کی مرکزی سائنس داں کیٹلن ڈیمسکی کہتیکہ خراب نیند اگلے دن کام کے معمولات، کارکردگی اور رویے پر بری طرح اثرانداز ہوتی ۔ اگر آپ گھر پر دفتری کام کرکے سوتےتو بہت آسانی سے اسے اپنی فکر سے الگ ن کرپاتے اور یوں اسی کو سوچتے ہوئے بستر تک جاتے ۔ لیکن سروے میں ایک اور پہلو پر بھی غور کیا گیا جو ہماری زندگی میں بہت اہمیت رکھتا ۔ یہ بھی پڑھیں: قاری کے پاس خود پہنچنے والے دنیا کے دلچسپ موبائل کتب خانے دفتر کی تلخ باتوں کو بھی چھوڑ آئیں اس سروے میں امریکی محکمہ زراعت و جنگلات کے 699 افراد کو شامل کیا گیا اور ان سے کام کے معمولات اور نیند کے بارے میں سوالات کیے ۔ سروے میں واضح طور پر یہ بات سامنے آئی کہ جن افراد کو دفتر میں ماتحت نے جھڑکا یا ساتھی نے کسی بات پر کچھ منفی بات کی تو اس کا اثر نیند پر ہوا۔ وہ اچھی طرح سونے سے قاصر ر یا رات کو باربار سوتے سے جاگنا پڑا۔ اس اہم تحقیق سے معلوم ہوا کہ گھر میں دفتر کا کام اور اس کا منفی ماحول دونوں ہی نیند اور صحت کے لیے برے ثابت ہوتے ۔ اس لیے ایک جانب تو دفاتر کو دفتری آداب اور ماحول بہتر بنانے کی ضرورت اور اگر یہ ممکن ن تو بطور ایک ملازم ہم خود پر اتنا تو رحم کرسکتےکہ آفس کا کام و رہنے دیں اور اسے گھر لے جانے سے گریز کریں۔ یہ بھی پڑھیں: بچوں کو ڈرانے دھمکانے کے منفی اثرات زندگی بھر قائم رہتے

متعلقہ خبر یں

روزانہ خبریں اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

Leave a Reply