زندہ خلیات کو انسانی ہاتھ پر منتقل کرنے والی تھری ڈی مشین

یونیورسٹی آف منی سوٹا کے ماہرین نے انسانی ہاتھ پر خلیات اور سرکٹ بنانے والا پرنٹر تیار کرلیا۔ منی سوٹا: امریکی ماہرین نے ایک اہم اختراع کے طور پر ایسی تھری ڈی مشین بنالی جو انسانی خلیات اور الیکٹرونک سرکٹس براہِ راست انسانی جلد پر منتقل کرسکتی ۔ اس طرح جلد کے امراض کے علاج کی انقلابی را ہموار ہوسکیں گی۔ اس خبر کو بھی پڑھیں : یہ پیڈ ہاتھ لگاتے ہی جراثیم اور وائرس ختم کردیتا ! اس عمل کےلیے ماہرین نے ایک نیا طریقہ وضع کیا ۔ روایتی تھری ڈی پرنٹنگ میں ڈیجیٹل فائل سے سہ جہتی (تھری ڈی) ٹھوس شے بنائی جاتی اور اس کےلیے کئی مٹیریل استعمال کیے جاتےجبکہ منی سوٹا کے ماہرین نے ایک نیا طریقہ اختیار کیا ۔ اس طریقے میں مشین کمپیوٹر کی مدد سے دیکھتیاور فوری طور پر اپنی حرکات کو تبدیل کرتی رہتی ۔ اس طرح یہ کم خرچ پرنٹر شے اٹھاتااور اسے رکھتا رہتا ۔ دوسری جانب اکثر پرنٹر سے جو مٹیریل نکلتاوہ بہت گرم ہوتا جسے انسانی ہاتھ پر براہِ راست ن ڈالا جاسکتا۔ اسی بنا پر جو تھری ڈی روشنائی بنائی گئیوہ چاندی کے ذرات سے بنیجو کمرے کے درجہ حرارت پر کام کرتی ۔ اب اس کے ذریعے انسانی جلد پر کوئی الیکٹرونک سرکٹ اور زندہ خلیات دونوں ہی سموئے جاسکتے ۔ اس کے استعمالات بھی بہت زیادہ ۔ کسی جنگ میں مصروف سپاہی کی جلد پر کیمیائی یا حیاتیاتی ہتھیاروں سے خبردار کرنے والا برقی سینسر وقتی طور پر چھاپا جاسکتاجسے سپاہی کے جسم سے لگے سولر سیل سے چلایا جاسکتا ۔ جنگ کے بعد فوجی اس سرکٹ کو اپنے جسم سے بہ آسانی اتار سکتا ۔ اس خبر کو بھی پڑھیں : پلاسٹک کھانے والا ’نیا‘ اینزائم دریافت کرلیا گیا دوسری جانب خراب جلد اور ناسور پر صحت مند خلیات ڈال کر ان کے زخموں کو علاج بھی کیا جاسکتا ۔ یہ ایجاد پروفیسر مائیکل مِک الپائن اور ان کے ساتھیوں کی کاوشجسے ہر فن مولا پرنٹر کہا جارہاتاہم ماہرین نے اس کے کام کرنے کی بہت کم تفصیلات جاری کی ۔ پروفیسر مائیکل کے مطابق یہ ایجاد ایک جانب انجینئرنگ اور دوسری جانب طبی استعمال میں انقلاب برپا کرسکتی ۔

متعلقہ خبر یں

روزانہ خبریں اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

Leave a Reply