امریکا میں گال پر بوسہ لینے سے 18 دن کی بچی انتقال کرگئی

America

واشنگٹن: امریکا میں محبت کے اظہار کے لیے گال پر بوسہ لینے کی وجہ سے 18 دن کے بچے کی موت نے دنیا بھر میں والدین کو خوفزدہ کردیا ۔

عام طور پر بچے کی پیدائش کے وقت عزیز و اقارب اور دوست احباب مبارکباد دینے اور بچے سے ملنے کے لیے گھروں پر آتےاور بچے کو پیار بھی کرتےاور چومتے بھی ۔ ایسا ہی کچھ امریکی ریاست آئیوا کے جوڑے نکول اور شین سیفرٹ کے ساتھ ہوا جب ان کی 18 دن کی بچی ماریانا سیفرٹ گال پر بوسہ لینے سے اُس وقت چل بسی جب اس کے جسم میں خطرناک وائرس ’’اوروفیشل ہرپز‘‘ داخل ہوا اوراس کی وجہ سے بچی کو گردن توڑ بخار ہوگیا اوردیکھتے ہی دیکھتے وہ زندگی کی بازی ہار گئی۔

ڈاکٹرز نے بچی کی موت کے بعد جب نکول اور شین کے ٹیسٹ کیے تو معلوم ہوا کہ ان دونوں میں ایسا کوئی وائرس موجود ن جس کا مطلب یہ ہوا کہ بچی کو وائرس ان کے کسی رشتے دار یا دوست سے لگا جسے زکام تھا۔ ڈاکٹرز کا کہناکہ عام طور پر یہ وائرس جان لیوا ن ہوتا تاہم اتنے چھوٹے بچے کے لیے یہ نقصان دہ ضرور ہوسکتا کیوں کہ اس کی قوت مدافعت کمزور ہوتی ۔ شین اور نکول نے دیگر والدین سے اپیل کیکہ وہ اپنے نوزائیدہ بچے کو کسی دوسرے شخص کے حوالے نہ کریں اور ان بوسہ بھی نہ لینے دیں۔

ڈاکٹرز کا کہناکہ پیدائش کے بعد ابتدائی 3 ماہ بچے کی زندگی کے لیے انتہائی اہم ہوتےاور خاص طور پر پہلے ماہ تو بچے کی مکمل نگہداشت کرنی چاہیے۔ اس واقعے کے بعد دنیا بھر میں والدین اس کشمکش میںکہ وہ اپنے نوزائیدہ بچے کو پیار سے بوسہ لیں یا نہ لیں۔ ڈاکٹرز کہتےکہ جب بچہ پیدا ہوتاتو اس کا قوت مدافعت پوری طرح تیار ن ہوتا اور اسے بیماریاں لگنے کے امکانات بہت زیادہ ہوتے ۔ انسانی لعاب اور جلد سے اسے بیماریاں لگ سکتی لہٰذا والدین کو اس ضمن میں احتیاط برتنی چاہیے۔