زیادہ میٹھا کھانے والے اُداس رہتے ہیں، تحقیق

meetha khanay

لندن: یونیورسٹی کالج لندن (یو سی ایل) میں وبائیات اور عمومی صحت کے ماہرین نے دریافت کیاکہ جو لوگ زیادہ میٹھا کھانے کے عادی ہوتےوہ اوسط اور کم مقدار میں میٹھا کھانے والوں کے مقابلے میں زیادہ اداس رہتے ۔

ماضی میں بھی اس حوالے سے مختلف تحقیقات کی جاچکیجن میں شکر کے زائد استعمال اور دماغ پر منفی اثرات کے مابین تعلق سامنے آچکالیکن اب تک یہ بات صرف ایک امکان کی صورت میں تھی جس کی حتمی تصدیق ہونا باقی تھی۔

یو سی ایل میں پی ایچ ڈی کی طالبہ انیکا نیوپیل اور دیگر ماہرین نے دریافت کیاکہ ایسے صحت مند مرد جو لمبے عرصے تک روزانہ 67 گرام یا اس سے زیادہ مقدار میں شکر استعمال کرتےان روزانہ 40 گرام یا اس سے کم شکر کھانے والے مردوں کے مقابلے میں مزاج سے متعلق مسائل (mood disorders) کا خطرہ 23 فیصد زیادہ ہوتاجبکہ ان مسائل میں ڈپریشن اور بے چینی (اینگژائٹی) سرِفہرست ۔

مطالعے میں یہ بھی دیکھا گیا کہ زیادہ شکر اور مزاجی مسائل میں تعلق ہر طبقے کے مردوں یکساں ہوتایعنی اس بات سے کوئی فرق ن پڑتا کہ زیادہ شکر استعمال کرنے والا کوئی مرد امیریا غریب، اور زیادہ تعلیم یافتہیا کم پڑھا لکھا۔

علاوہ ازیں یہ بھی پتا چلاکہ چا خالص حالت میں زیادہ شکر کھائی جائے یا پھر میٹھے کھانوں میں شامل کرکے، دونوں صورتوں میں زیادہ شکر کھانے کے موڈ پر منفی اثرات یکساں ہی رہتے ۔

اس دریافت کے باوجود ابھی یہ معلوم ہونا باقیکہ شکر کا زیادہ استعمال کس طرح سے دماغ پر اثر انداز ہوتاجبکہ خواتین پر ایسے ہی ایک اور بھرپور تحقیقی مطالعے کی ضرورت ۔