ادرک کا استعمال گٹھیا سے نجات دلاتا ہے

adrak

لاس اینجلس: امریکی ماہرین نے 247 مریضوں پر کیے ایک مطالعے سے دریافت کیاکہ جوڑوں کے مرض میں ادرک کا عرق، بازار میں دستیاب ’’اینسیڈ‘‘ (NSAID) قسم کی دواؤں سے زیادہ مفید ثابت ہوتاجبکہ اس کے مضر اثرات بھی ن پڑتے۔

یونیورسٹی آف کیلیفورنیا، لاس اینجلس اور دیگر اداروں کی اس مشترکہ تحقیق میں 247 رضاکاروں کو شامل کیا گیا جو گٹھیا کی وجہ سے گھٹنوں کے درد میں مبتلا ۔ ان مریضوں کے ایک گروپ کو چار ہفتوں تک ادرک کا خالص اور گاڑھا رس پلایا گیا جبکہ دوسرے گروپ کو ایک ایسا مصنوعی لیکن بے ضرر مشروب پلایا گیا جو دیکھنے میں ادرک کے رس جیسا تھا۔

ایک ماہ بعد ادرک کا اصلی عرق پینے والے مریضوں میں سے 40 فیصد میں گھنٹوں کے جوڑوں پر سختی اور درد کی کیفیت نمایاں طور پر کم ہو گئی جو گٹھیا کا سب سے تکلیف دہ نتیجہ ہوتی ۔

اب تک یہ تو معلوم ن ہوسکاکہ ادرک میں وہ کونسا جزوجو خاص طور پر گھٹیا کا علاج کرنے میں مفید ثابت ہوتالیکن روایتی طور پر کئی امراض میں ادرک کی افادیت ظاہر کرتیکہ ممکنہ طور پر یہ اثرات ایک سے زائد مرکبات کے عمل کا نتیجہ ہو سکتے ۔

ماہرین کا کہناکہ اگرچہ اینسیڈ قسم کی دوائیں جوڑوں کے درد میں فوری کمی ضرور لاتیلیکن ان کا روزانہ استعمال دوسری کئی بیماریوں اور تکالیف کی وجہ بھی بن سکتا ۔ اس کے مقابلے میں اگرچہ ادرک کا عرق نسبتاً آہستگی سے فائدہ پہنچاتالیکن انسانی صحت پر مضر اثرات ن ڈالتا۔

ترقی یافتہ ممالک میں ادرک کے عرق سے بھرے کیپسول عام فروخت ہوتے البتہ اگر آپ بہتر نتائج چاہتےتو ادرک والی چائے کا استعمال آپ کے لیے زیادہ مفید ر گا۔ اس کے علاوہ روزمرہ کھانوں کے ساتھ ادرک کا اضافہ بھی آپ کی صحت کے لیے طویل مدتی محافظ ثابت ہو سکتا ۔