زخم بھرنے اور دماغ کو بحال کرنے والا جادوئی پیوند

zakham

اوہایو: سائنسدانوں نے سکے کے برابر کا ایک پیوند تیار کیاجو نہ صرف نئے اعضا اگا سکتابلکہ دماغی افعال بحال کرنے اور زخم میں جینیاتی کوڈ داخل کر کے اسے مندمل کرنے کا کام بھی کرتا ۔

اس اہم ٹیکنالوجی کو ٹشو نینوٹرانسفیکشن (ٹی این ٹی) کا نام دیا گیا ۔ اسے جلد کے متاثرہ مقام پر چند سیکنڈ تک لگا کر ہٹا لیا جاتاجو جلد کے خلیات میں جینیاتی کوڈ داخل کرتاجس سے خون کی رگیں درست ہو جاتیاور تجربات کے مطابق صرف چند روز میں ہی زخم مندمل ہو جاتا ۔

اوہایو اسٹیٹ یونیورسٹی کے ویکسنر میڈیکل سینٹر کے سائنسدانوں نے اسے چو پر آزمایاجسے پہلے فالج سے بیمار کیا گیا اور وہ پیروں سے معذور ہو گیا تھا۔ جب چِپ کو اس پر رکھا گیا تو صرف تین ہفتے میں چوہا چلنے پھرنے کے قابل ہوگیا۔

اوہایو یونیورسٹی کے محقق ڈاکٹر چندن سین کہتےکہ ’ہم نے پیوند کو ایک سیکنڈ سے بھی کم وقفے کے لیے متاثرہ حصے پر لگا کر ہٹایا اور خلیات کی پروگرامنگ شروع ہو گئی۔ ماہرین نے کئی طرح سے اس ایجاد کو آزمایامثلاً چو کے زخموں پر لگانے بعد خون کا بہاؤ رک گیا۔

چندن سین کے مطابق چپ عام جلدی خلیات کو اس طرح ری پروگرام کرتی کہ وہ ویسکیولر خلیات بن جاتے ۔ چپ لگاتے ہی چو میں خون کی رگیں بننے لگیں اور تیسرے ہفتے میں ان جانوروں کے پیر بالکل ٹھیک ہو ۔ ٹیکنالوجی پر کام کرنے والے دوسرے ماہر جیمز لی نے بتایا کہ یہ عمل جین تھراپی جیسامگر اس کے فوری نتائج برآمد ہوتے ۔ فرق صرف یہکہ اس سے ڈی این اے قدرے مختلف انداز میں خلیات کے اندر داخل کئے جاتے ۔

چپ میں مخصوص پروٹین کے جینیاتی کوڈ ہوتےاور جلد کو چھوتے ہی وہ ہلکا کرنٹ داخل کیا جاتاجس سے ٹشو کے اندر جین داخل ہونے کا راستہ بن جاتا ۔ کبھی ڈی این اے اور کبھی آر این اے ان راستوں کے اندر جاتااور خلیات کی پروگرامنگ کو بدلنے لگتا ۔ نیچر نینوٹیکنالوجی میں شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق ابتدائی تجربات میں یہ عمل 98 فیصد کامیاب رہا ۔

چندن سین کے مطابق یہ جلد کے علاوہ ہرطرح کے خلیات اور بافتوں (ٹشوز) کی افزائش کے لیے کارآمد ۔ اس عمل میں خود مریض کا ڈی این اے ہی لیا جاتااور یوں جسم کی جانب سے کوئی ردِعمل ن ہوتا۔