ناکامی پر دکھی اور جذباتی ہونا اگلی کامیابی کو ممکن بناسکتا ہے

nakami par dukhi

ٹیکساس: یونیورسٹی آف کینساس میں مارکیٹنگ کے پروفیسر نیول نیلسن نے کہاکہ اگر کسی کام میں ناکامی ہوجائے تو ذہنی طور پر اسے جاننے کے بجائے اس کا صدمہ لینا اور جذباتی ہونا قدرے فائدہ مند ہوتا ۔ اس طرح سے لوگ اگلی ایسی ہی صورتحال پر اچھی کارکردگی دکھاتےاور کامیاب بھی ہوسکتے ۔

اس تحقیق کے بعد کینساس یونیورسٹی اسکول آف بزنس کے معاون پروفیسر نیول نیلسن کہتے ، ’ناکامی کے بعد خیالات کے بجائے جذبات پر توجہ دینے سے لوگوں پر اچھے اثرات مرتب ہوتےاور ان کی کارکردگی بہتر ہوجاتی ۔‘ اس تحقیق میں انہوں نے شعوری خیالات اور جذبات واحساسات پر تحقیق کی ۔

ماہرین نے انڈرگریجویٹ کے چند طالب علموں کو تین گروہوں میں تقسیم کیا۔ ان سے کہا گیا کہ وہ آن لائن ایک جوسر بلینڈر تلاش کریں جس کی قیمت کم سے کم ہو اور ایسا کرنے والے کو کیش ایوارڈ دیا جائے گا۔ اب کمپیوٹر نے ایک کھیل کھیلا اور قیمت ڈھونڈنے کے بعد ان بتایا کہ جو قیمت وہ لائےاس سے بھی سوا تین ڈالر کم میں وہ شے مل رہی ۔ اس کے بعد کسی کو بھی 50 ڈالر کا انعام ن مل سکا۔

اس ناکامی پر مختلف لوگوں نے مختلف اثر لیا۔ بعض جذباتی کیفیت میں آ اور بعض افراد نے اس کا شعوری احساس کیا اور ناکامی کا عقلی جائزہ لینے لگے۔ ان میں سے جو لوگ جذباتی ہوئےاگلی مرتبہ وہ زیادہ پرعزماور انہوں نے ایسے ہی دوسرے ٹیسٹ میں اچھی کارکردگی دکھائی۔ تاہم اس کا صرف عقلی شعور رکھنے والوں نے بھی دوبارہ اس سے تھوڑی بہتر کارکردگی ظاہر کی۔

اس سے طے ہوا کہ ناکامی کا وقتی دکھ اور جذباتی احساس کرنے سے اگلی مرتبہ ہماری صلاحیت بہتر ہوسکتی ۔