آنول نال کے خلیات سے ہارٹ فیل کے مریضوں کا علاج ممکن

چلی: دل کے شدید دورے یا ہارٹ فیل کے بعد دل کے پٹھے کمزور ہوجاتےاور اب ایک نئی تحقیق سے انکشاف ہواکہ آنول نال سے اخذ کردہ خلیاتِ ساق (اسٹیم سیلز) سے دل کے پٹھوں کو مضبوط بنایا جاسکتااور مریض کی زندگی کو بڑھانا ممکن ۔ چلی میں ڈاکٹر جارگے بارٹلوچی اور ان کے ساتھیوں نے پیدائشی بچوں سے جڑی آنول نال سے پہلے خلیاتِ ساق (اسٹیم سیل) نکالے۔ یہ انتہائی اہم اور بنیادی خلیات ہوتےجو کسی بھی عضو کے خلیات میں ڈھلنے کی صلاحیت رکھتے ۔ اب ان خلیات کو انجکشن میں بھر کر دل کے دورے کے شکار مریضوں کے جسم میں داخل کیا گیا ۔ اس کے علاوہ مریضوں کو ایک گروپ کو فرضی دوا (پلیسیبو) کے ٹیکے لگائے ۔ اس سروے میں 18 سے 75 برس تک کے 30 مریض شامل ۔ ایک گروپ میں صحت مند ماؤں کی آنول نال سے نکالےاسٹیم سیل داخل کئے ۔ ڈاکٹر بارٹلوچی کے مطابق ایک سال کے اندر اندر ان مریضوں کا دل بہتر ہوگیا، خون بہتر طور پر پمپ کرنے لگا اور ان کی زندگی بہتر ہوتی گئی۔ جبکہ مریضوں پر اس کے کوئی منفی اثرات سامنے ن آئے اور کسی قسم کی جلن اور سوزش محسوس ن کی گئی۔ ماہرین نے اس طریقہ علاج کو محفوظ اور قابلِ عمل قرار دیا۔ ڈاکٹروں کے مطابق اس سے دل کے والو بہتر ہوئے اور دل بہتر انداز میں خون پمپ کرنے لگا۔ اپنی رپورٹ میں ڈاکٹر جارگے بارٹلوچی نے لکھاکہ اگرچہ نتائج حوصلہ افزالیکن اسے مزید انسانوں پر آزمانے کی ضرورت ۔ اس طرح کی اسٹیم سیل تھراپی ہارٹ فیل کے بعد بچ جانے والے مریضوں کےلیے انتہائی مفید ثابت ہوسکتی ۔ اس صورتحال میں مریضوں کے دل میں وینٹریکل اسسٹ آلات اور شدید بیماری میں دل کی تبدیلی کی جاتی ۔ واضح ر کہ ہارٹ فیل کے مریضوں کی نصف تعداد اگلے پانچ سال میں لقمہ اجل بن جاتیجبکہ مشکل سے 30 فیصد مریض ہی 10 برس تک پورے کرسکتے ۔

متعلقہ خبر یں

روزانہ خبریں اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

Leave a Reply