ضرورت سے زیادہ پپیتا کھانے کے نقصانات

کراچی: پپیتا مشرق اور مغرب میں بے انتہا پسند کیا جاتا، پپیتے میں بے شمار فائدے پائے جاتےخاص کر چہرے کی جلد کے لیے یہ انتہائی مفید ہوتا ۔ پپیتے میں وٹامن اے، بی، سی اور پروٹیولائٹک انزائم پایاجاتا ، یہ انزائم جسم میں پروٹین کے ہاضمے میں نہایت اہم کردار اداکرتااس کے علاوہ یہ پھل ذائقے میں بھی بہت مزیدار اور میٹھا ہوتاجسے ہرعمر کے لوگ پسند کرتے ۔تاہم فائدے کے ساتھ پپیتا کھانے کے بے انتہا نقصانات بھی ہوتے ، پپیتا کھانے سے نظام انہضام میں خرابی کے ساتھ بلڈ پریشر میں اضافہ ہوسکتا ۔ الرجی: پپیتے کے اوپری حصے میں لیٹکس نامی خشک مادہ پایاجاتاجوالرجی میں اضافے کاباعث بنتا ، لہٰذا وہ افراد جو پہلے ہی الرجی کے مرض کا شکار ہوتےان کے مرض میں پپیتا کھانے سے اضافے کا خدشہ ہوتا ۔ شوگر کی مقدار میں کمی: پپیتا کھانے سے جسم میں شوگر کا لیول کم ہوسکتا، وہ افراد جن کے خون میں شوگر کی کم مقدار ہوتیان چاہئے کہ پپیتا کھانے سے گریز کریں ، اس کے علاوہ پپیتے میں موجود لیٹکس حاملہ خواتین کے لیے بھی بے حد نقصان دہاس سے اسقاط حمل کا خطرہ بڑھ جاتا ۔ ہاتھوں کا پیلا ہوجانا: پپیتے میں بیٹا کروٹین پایاجاتاجو جلد میں کیروٹینیمیا کی بیماری کا باعث بنتا ، اس بیماری سے ہتھیلیوں اور تلووں کارنگ پیلا پڑجاتااور آنکھیں سفید ہوجاتی ، یہاں تک کہ انسان یرقان یا پیلیا جیسی خطرناک بیماری کا شکار بھی ہوسکتا ۔ پھیپھڑوں کے لیے خطرناک: پپیتے میں ’’پےپین‘‘نامی انزائم پایا جاتا، یہ انزائم انسانی پھیپھڑوں کے لیے انتہائی خطرناک تصور کیاجاتا ،پپیتے کی معمول سے زیادہ زائد مقدار کھانے سے سانس لینے میں تکلیف ہوسکتی ، سانس لینے کے دوران عجیب و غریب آوازیں سنائی دیتی جس کا واضح مطلبکہ انسان کو سانس لینے میں سخت تکلیف کا سامنا کرنا پڑرہا ،یہاں تک کہ انسان دمہ کا مریض بھی بن سکتا۔ اس کے علاوہ یہ انزائم جسم کا درجہ حرارت بڑھادیتاجسے عام لفظوں میں تیز بخار کہاجاتا ۔ گردے میں پتھری: ایک 5 انچ لمبے پپیتے میں 60 ملی گرام کے قریب وٹامن سی ہوتی، وٹامن سی کی اتنی مقدار جسمانی صحت کے لیے فائدے مند ہوتی ، تاہم کسی بھی چیز کی زیادتی فائدے کے بجائے نقصان دہ ہوتی، لہذا وٹامن سی کی زائد مقدار صحت کے لیے خطرناک ہوتیاور گردے میں پتھری کا باعث بن سکتی، اس لیے زیادہ مقدار میں پپیتا کھانے سے گریز کریں۔ نظام انہضام میں خرابی: زیادہ پپیتا کھانا ہاضمے کے نظام کو متاثر کرتا ، اس کے علاوہ پیٹ میں درد  ، گیس اور الٹی کی شکایت بھی پیدا ہوسکتی۔ جلد پر خراشیں: پپیتے میں موجود ’’پے پین‘‘ انزائم کو اکثر جلد کو جوان رکھنے والی کریم بنانے میں استعمال کیاجاتا،تاہم یہ بات قابل غور کہ ہر انسان کی جلد ایک دوسرے سے مختلف ہوتی ، اور پے پین ہر قسم کی جلد کے لیے فائدہ مند ن ہوتا، وہ افراد جن کی جلد زیادہ حساس ہوتیپپیتا کھانے سے یا پے پین والی کریم استعمال کرنے سے ان کی جلد میں خارش ہونے کے ساتھ جلد پر خراشیں  پڑجاتی ۔ دل کی دھڑکن مدہم ہونا: وہ افراد جو دل کی بیماری میں مبتلاوہ پپیتے کا استعمال یاتو بہت کم کریں یا پھر بالکل نہ کریں ، کیونکہ ’’پے پین‘‘دل کی دھڑکن کو کم کرتاجو دل کے مرض میں مبتلا افراد کے لیے نہایت نقصان دہ ثابت ہوتا، بعض اوقات پپیتا کھانا ان کے لیے جان لیوا بھی ثابت ہوسکتا ۔

متعلقہ خبر یں

روزانہ خبریں اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

Leave a Reply