سماجی رابطوں میں کمزوری صحت خراب کرتی ہے، تحقیق

لندن: ہم جانتےکہ سماجی و معاشرتی رابطوں میں کمزوری اور صلاحیت کا نہ ہونا ڈپریشن، یاسیت اور دیگر ذہنی عارضوں کی وجہ بن سکتالیکن اب یہ معلوم ہواکہ یہ کمی جسمانی صحت کی خرابی کی بھی اہم وجہ بن سکتا ۔ ذہنی تناؤ اور تنہائی اگرچہ سماجی روابط کی کمزوری کو ثابت کرتے لیکن جو لوگ سماجی روابط اور معاشرتی میدان میں کمزور ثابت ہوتےان کی جسمانی صحت پر بھی برا اثر پڑتا ۔ ہیلتھ کمیونی کیشن نامی تحقیقی مجلے میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق اس ضمن میں 775 افراد پر مشتمل گروپ کا ایک سروے کیا گیا جس میں 18 سے 91 برس تک کے لوگ شامل ۔ ان تمام رضاکاروں سے آن لائن سوالات کیے جن میں ان کے ذہنی تناؤ، تنہائی، سماجی روابط اور معاشرے میں رہنے کی مہارت کے ساتھ ساتھ ذہنی و جسمانی صحت کے بارے میں بھی پوچھا گیا تھا۔ اس سروے میں سماجی روابط کی بہتری اور خرابی سے مراد یہکہ بعض لوگ دوسرے لوگوں سے بہت اچھی طرح بات چیت اور میل ملاپ رکھتے جبکہ کچھ افراد اس میں ناکام رہتےاور دوسروں سے اپنے خیالات کا بہتر طور پر تبادلہ ن کرسکتے۔ اب ثابت ہواکہ یہ کمی خود خرابی صحت کی وجہ بھی ہوسکتی ۔ سروے میں چار اہم سماجی عوامل کو شامل کیا گیا تھا: اول دوسروں کو جذباتی مدد فراہم کرنا، دوم خود کو کھولنا تاکہ وہ دوسروں سے اپنی ذاتی معلومات کا تبادلہ کرسکیں، سوم دوسروں کی نامناسب بات پر اصولی مؤقف اختیار کرنا، اور چہارم تعلقات قائم کرنا جس میں دوسروں کے سامنے خود کو متعارف کرانا اور روابط بڑھانا جیسی بنیادی اور اہم باتیں ہوتی ۔ اس سروے میں یہ بات بھی سامنے آئی کہ اکیلا پن ایک خطرناک رجحان جو جسمانی و نفسیاتی، دونوں طرح سے بہت مضر ہوتا ۔ اس کا جسم کو وہی نقصان ہوتاجو تمباکو نوشی، موٹاپے اور ورزش نہ کرنے سے ہوتا ۔ اگر ہمارے گھر کی چابی کھوجائے تو اس کی تشویش غیر معمولی ہوتیلیکن چابی ملتے ہی یہ پریشانی غائب ہوجاتی ۔ معاشرے سے کٹے ہوئے اکیلے افراد کو ہمہ وقت اسی تناؤ کا سامنا ہوتااور وہ اس سے فرار ن ہوپاتے۔ آخرکار یہ مزاج ان ہر طرح سے نقصان پہنچاتا ۔ تاہم اچھی خبر یہکہ معاشرے میں گھلنے ملنے سے یہ کیفیت بہت تیزی سے دور ہوتی جاتی ۔ بسا اوقات اس ضمن میں معالجین اور نفسیاتی ماہرین کی مدد بھی لی جاسکتی ۔ اس سے قبل کئی اہم مطالعوں سے ثابت ہوچکاکہ دوستوں اور عزیزوں کے درمیان بیٹھنے اور خوشگوار ماحول میں بات کرنے کا دماغ پر عین وہی اثر ہوتا جو کسی درد کش دوا کا ہوتا ۔ اس کے علاوہ ایک دوسرے کا دکھ درد سننے سے انسان کئی امراض سے محفوظ رہتا ۔

متعلقہ خبر یں

روزانہ خبریں اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

Leave a Reply