جی پی ایس کا استعمال انسانی دماغ کو معذور بنارہا ہے، تحقیق

gps usaage
لندن: گلوبل پوزیشننگ سسٹم یعنی جی پی ایس کا بڑھتا ہوا استعمال انسانی دماغ میں رہنمائی کرنے والے حصے کو بتدریج کمزور اور معذور بنارہا ہے۔
یونیورسٹی کالج لندن کے تحقیق کار عامر ہمایوں جاویدی اور ان کے ساتھیوں نے 24 رضاکاروں پر ایک مطالعہ کیا جس کے نتائج ریسرچ جرنل ’’نیچر کمیونی کیشنز‘‘ میں آن لائن شائع ہوئے ہیں۔
مطالعے میں رضا کاروں کو مختلف علاقوں میں پیچیدہ راستوں سے گزر کر اپنی منزل تک پہنچنے کے لیے کہا گیا جب کہ سفر کی ابتداء اور اختتام پر خصوصی آلات کے ذریعے ان کے دماغوں میں سمت بندی اور رہنمائی سے تعلق رکھنے والے حصوں کی سرگرمی کا جائزہ لیا گیا۔ مطالعے کے دوران نصف رضاکاروں کو جی پی ایس سے رہنمائی فراہم کرنے والے آلات (اسمارٹ فون اور جی پی ایس ٹریکر) دیئے گئے‘ تھے‘ جب کہ باقی نصف رضاکاروں کو ایسا کوئی آلہ فراہم
نہیں‘ کیا گیا بلکہ ان سے کہا گیا کہ وہ خود اپنی کوشش سے منزل تک پہنچیں۔ اس دوران یہ خیال بھی رکھا گیا کہ وہ مقرر کردہ جگہ پر پہنچنے کے لیے لگے بندھے راستے اختیار نہ کریں۔ اس مقصد کے لیے انہیں‘ شہر کے ایسے علاقوں میں چھوڑا گیا جو ان کے لیے اجنبی تھے‘ اور پھر ان سے منزل تک پہنچنے کے لیے کہا گیا۔ اس مشق سے ماہرین پر انکشاف ہوا کہ جو رضاکار جی پی ایس ٹریکر وغیرہ جیسی سہولیات استعمال کررہے‘ تھے‘، مطالعے کے اختتام پر ان کے دماغوں میں یادداشت اور رہنمائی سے متعلق حصے یعنی ’’ہپوکیمپس‘‘ میں سرگرمی یا تو بہت کم رہ گئی تھی یا پھر بالکل ختم ہوگئی تھی۔ ان کے برعکس وہ رضاکار جو اپنی آنکھوں اور دماغوں کی مدد سے نامعلوم راستوں پر چلتے ہوئے منزل تک پہنچنے کی کوشش کررہے‘ تھے‘ ان کے ہپوکیمپس میں سرگرمی زیادہ تھی۔ ان میں سے وہ چند رضاکار جنہیں‘ جان بوجھ کر سب سے مشکل اور انتہائی پیچیدہ راستوں پر چلنے کے لیے کہا گیا تھا ان کے ہپوکیمپس میں سرگرمی سب سے زیادہ اور نمایاں تھی۔ اس مطالعے کی روشنی میں ماہرین نے نتیجہ اخذ کیا ہے‘ کہ مصنوعی سیاروں کی مدد سے رہنمائی کرنے والی خودکار سہولیات کا استعمال ہمارے دماغ کے متعلقہ حصوں کی کارکردگی کم کردیتا ہے‘ اور اگر یہ سلسلہ ہمارا معمول بن جائے تو پھر دماغ آہستہ آہستہ کمزور ہوکر اس قابل ہی نہیں‘ رہتا کہ ہنگامی حالات میں کسی اضافی مدد کے بغیر ہماری کوئی رہنمائی کرسکے۔
روزانہ خبریں اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔