جنسی ہراسگی کے خاتمہ کے لیے MeToo# کے بعد ’ٹائم اپ‘ مہم

ہالی وڈ سمیت مختلف دفاتر میں جنسی طور پر ہراساں کیے جانے کے واقعات کو ختم کرنے کے لیے ادیبوں، ہیروئنوں اور ڈائریکٹروں نے ایک منصوبہ شروع کیا ہے۔

فلمی دنیا سے تعلق رکھنے والے تقریباً تین سو افراد اس مہم میں شامل ہیں اور اسے ‘ٹائم اپ’ کا نام دیا گیا ہے۔

جنسی ہراسگی کے خلاف اس منصوبے کے آغاز کا اعلان امریکی اخبار نیو یارک ٹائمز میں اشتہار کے ذریعے کیا گیا۔
کیا جنسی لت کا علاج ممکن ہے؟

آؤ تمھیں ہراساں کروں!

’والدین کو ایسے واقعات سے بچاؤ کے طریقے بتانے چاہییں‘

ٹائم میگزین: وہ جنہوں نے جنسی ہراس پر چُپ توڑی

ہالی وڈ کے اس منصوبے کو ‘انٹرٹینمنٹ انڈسٹری میں کام کرنے والی خواتین کی جانب سے دنیا بھر کی خواتین کے لیے یکساں آواز’ کے طور پر بیان کیا گیا ہے۔

اس مہم کا آغاز ہالی وڈ کے معروف فلم پروڈیوسر ہاروی وائن سٹائن کی جانب سے اداکاراؤں کو جنسی طور پر ہراساں کیے جانے کی خبریں آنے کے بعد ہوا ہے۔

یکجہتی کے اظہار کے لیے لکھے گئے خط کے مطابق ‘ٹائم اپ‘ کہتا ہے کہ خواتین یہ سب ختم کرنے، سر اُٹھانے اور اپنی آواز سنانے کے لیے جدوجہد کریں۔’

ویب سائٹ پر جاری ہونے والا خط کا اختتام ان کلمات پر ہوا ہے کہ ‘اجارہ داری کے خاتمے کا وقت آ گیا ہے۔’

یہ خط جس میں ہر خاتون کو مخاطب کیا گیا ہے کہ ‘ہر خاتون جس کا جنسی طور پر استحصال کیا جاتا ہے انھیں آگے بڑھنا چاہیے۔ اس طرح کا استحصال اکثر اس لیے جاری رہتے ہیں کہ ایسا کرنے والے اور مالکان کو کبھی بھی نتائج کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔‘

اس مہم کی سینکڑوں اداکاراوں نے حمایت کی ہے، ناتالیا پورٹ مین، ایما سٹون، ایوا لونگوریا اور کیت بیلنچٹ اس مہم کی فنڈنگ کے لیے کافی رقم اکٹھا کر لی ہے۔