دبئی میں کچرے سے بنے لباس زیب تن کرنے والی خواتین

دبئی کی خواتین نے ماحولیاتی شعور اجاگر کرنے کے لیے کچرے سے بنے لباس زیب تن کیے۔ دبئی: مارسکا اور ماریٹا نامی خواتین نے سڑکوں سے کچرا اُٹھانے کے لیے انوکھا طریقہ اختیار کرتے ہوئے کچرے سے بنا ہوا لباس زیب تن کر رکھاجس میں وہ راہ چلتے کچرا جمع کرتی ۔ غیر ملکی خبررساں ادارے کے مطابق مارسکا اور ماریٹا نامی خواتین نے پلاسٹک کے بڑے بڑے کوٹ سلوا کر اسے زیب تن کیا جسے خصوصی طور پر اس طرح تیار کیا گیاکہ وہ راہ چلتے کچرا اٹھا کر اسے لباس کے مخصوص حصوں میں محفوظ رکھ سکتیاور بعد ازاں اسے ٹھکانے لگا دیتی ۔ ان دونوں خواتین نے یہ خصوصی لباس کچرا اٹھانے اور صفائی ستھرائی کے شعور کو اجاگر کرنے کے لیے زیب تن کیےاور اس مہم کا مقصد ماحول کو آلودہ ہونے سے بچاناجب کہ یہ مہم گزشتہ ماہ 24 مارچ کو ’اَرتھ آر‘ کے دن شروع کی گئی اور 22 اپریل کو  ’ارتھ ڈے‘ تک جاری ر گی۔ اس دوران دونوں خواتین متحدہ عرب امارات کے تمام بڑے شہروں کا دورہ بھی کریں گی۔ دونوں خواتین ایک دن میں 2 سے 5 کلو تک کچرا جمع کرتی اور شادی بیاہ سمیت دیگر اہم تقریبات میں بھی یہی لباس زیب تن کیے ہوتیجن کا مقصد لوگوں کو اس مہم کی جانب متوجہ کرنا اور لوگوں کو کچرے سے ہونے والے نقصان اور ماحولیاتی آلودگی سے آگاہ کرنا ۔ خواتین کا کہنا تھا کہ ہم نے یہ لباس اس لیے زیب تن کیاتاکہ لوگ ہماری جانب متوجہ ہوں اور ہم سے سوالات کریں جن کے جواب میں ہم ماحولیاتی آلودگی سے متعلق اہم معلومات فراہم کرتے ۔ انہوں نے کہا کہ یہ سلسلہ کافی کامیاب جا رہیاور لوگ نہ صرف ہماری حوصلہ افزائی کر ربلکہ خود بھی اس مہم کا حصہ بن ر ۔

متعلقہ خبر یں

روزانہ خبریں اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔