منجمد جھیل کو اسکیٹنگ کے ذریعے روزانہ پار کرنے والی 76 سالہ خاتون

76 سالہ خاتون
76 سالہ خاتون

عمر رسیدگی کے باوجود وہ سخت سردی میں جھیل بیکال کے ایک کنارے سے دوسرے کنارے کا سفر کرتی

سائبیریا: روس میں ایسی باہمت خاتون کی کہانی بہت مقبول ہورہیجو دنیا کی سب سے بڑی اور گہری ترین جھیل جم جانے کے بعد روزانہ اس کے ایک کنارے سے دوسرے کنارے تک اسکیٹنگ کرکے جاتی ۔ اس خبر کو بھی پڑھیں : دبئی میں کچرے سے بنے لباس زیب تن کرنے والی خواتین

76 سالہ خاتون ’لیوبوف مورخودووا‘ اب ریٹائرمنٹ کی زندگی گزار رہی ۔ اپنی عمر رسیدگی کے باوجود وہ انتہائی سردی میں دنیا کی مشہور جھیل بیکال کے ایک کنارے سے دوسرے کنارے کا سفر کرتی ۔ یہ سفر وہ خصوصی اسکیٹنگ جوتوں کے ذریعے کرتیاور ان کی مہارت پر بہت سے لوگوں نے حیرت کا اظہار کیا ۔

لیوبوف ٹیکنالوجی آفیسراور وہ اپنے پالتو جانوروں کے ساتھ ایک چھوٹے سے گھر میں رہتی ۔ انہوں نے گائے، بیل، بھینس، مرغابیاں، بلی اور کتے پال رکھے ۔ لیوبوف روزانہ ساڑھے پانچ بجے اٹھتیاور 1943ء میں بنائےاپنے قدیم اسکیٹنگ شوز پہنتیاور جھیل پر اسکیٹنگ کرتے ہوئے وہاں کا دورہ کرتی ۔

سائبیریا کی خون جما دینے والی سردی اور بیابان میں یہ باہمت خاتون تنہا رہتیتاہم ان کے بچے گرمیوں میں ان سے ملنے آتے ۔ ان کے نزدیک زندگی کا یہ پہلو بہت آرام دہ اور پرسکون ۔ ان کے والد نے 70 سال قبل لکڑی کے جوتوں پر نوک دار آہنی ٹکڑے لگا کر دیسی اسکیٹنگ جوتے تیار کیےجن وہ آج بھی برف پر پھسلنے کے لیے استعمال کرتی ۔ اس خبر کو بھی پڑھیں : حجام کا آنکھوں کی شیو کرکے لوگوں کی نظریں تیز کرنے کا دعویٰ

علاوہ ازیں وہ پینے کا پانی بھی جھیل کے کھلے ہوئے حصے سے بھر کر لاتیاور اس کے لیے برف پر کئی کلومیٹر کا سفر طے کرنا پڑتا ۔ جھیل کے دوسری جانب سبزہجہاں ان کی پالتو گائیں چرنے اور بھوک مٹانے جاتی ۔ اسی لیے ان خاتون کو خود وہاں جاکر ان کی حفاظت کرنا پڑتی ۔ ان کا جھیل پار کرنے کا واحد مقصد یہکہ ان کی پالتو گائے ک کھو نہ جائیں اور بحفاظت گھر لوٹ آئیں۔