پرندے بھی زن مرید ہوتے ہیں

ویلنگٹن: نیوزی لینڈ کے سائنسدانوں نے انکشاف کیاکہ انسانوں کی طرح چڑے بھی زن مرید ہوتےیعنی وہ اپنی ماداؤں کو خوش رکھنے کے لیے ہر طرح کے جتن کرتےاور ان کا من پسند دانہ دُنکا اور کیڑے مکوڑے ڈھونڈ ڈھونڈ کر لاتے ۔ یہ مطالعہ ویلنگٹن کی وکٹوریا یونیورسٹی کے سائنسدانوں نے کیا  جس میں نیوزی لینڈ کے شمالی جزیرے پر پائی جانے والی ’’روبن‘‘ نامی چھوٹی چڑیوں کا جائزہ لیا گیا۔ ماہرین یہ بات پہلے سے جانتےکہ روبن چڑیاں اپنی پوری زندگی میں ایک ہی جیون ساتھی بناتیاور یہ خاصیت انسانوں سے مشابہت رکھتی ۔ البتہ اس مطالعے میں روبن چڑیوں کی انسانوں جیسی ایک اور بات یہ بھی سامنے آئی کہ جب ان کی مادائیں (بیویاں) انڈے دینے کی تیاری کررہی ہوتیتو ان کے نر (شوہر) سارے جنگل میں بھٹکتے پھرتےتاکہ اپنی ماداؤں کے لیے پسندیدہ ترین غذا ڈھونڈ کر لاسکیں۔ لیکن بات صرف ی پر ختم ن ہوجاتی بلکہ روبن چڑیوں کی مادائیں کچھ ایسی آوازیں بھی نکالتیجیسے اپنے نروں سے کچھ خاص چیز کھانے کی فرمائش کررہی ہوں۔ ان ’’فرمائشوں‘‘ کے جواب میں نر اُن کے لیے مخصوص دانہ اور کیڑے مکوڑے وغیرہ تلاش کرکے لاتےجسے وہ خوش ہو کر کھاتی ۔ مادہ روبن چڑیوں کا یہ معمول صرف ان دنوں ہی میں ن ہوتا کہ جب وہ انڈے دینے والی ہوتیبلکہ وہ کسی بھی وقت مخصوص چہچہاہٹ کے ذریعے اپنے نروں (شوہروں) کو ’’کچھ الگ‘‘ لا کر کھلانے کا ’’حکم‘‘ دیتی ۔ مطالعے کے دوران دیکھا گیا کہ روبن چڑیوں کے نر بہت ہی فرمانبردار قسم کے شوہروں جیسا برتاؤ کرتے ہوئے، کوئی احتجاج یا نخرا کیے بغیر، اپنی ماداؤں کا حکم بجالاتےاور ان خوش رکھنے کی بھرپور کوشش کرتے ۔ ریسرچ جرنل ’’سائنٹفک رپورٹس‘‘ میں شائع ہونے والی اس تحقیق سے یہی پتا چلتاکہ زن مریدی صرف انسانوں ہی تک محدود ن بلکہ جانوروں اور پرندوں میں بھی نروں یعنی ’’شوہروں‘‘ کے حالات انسانوں سے کچھ مختلف ن ہوتے۔

متعلقہ خبر یں

روزانہ خبریں اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔