پراسرار جاپانی گڑیا جس کے سر سے انسانی بال اگ رہے ہیں

جاپانی گڑیا
جاپانی گڑیا

جاپانی گڑیا اوکائیکو جس کے بال اب تک بڑھ ر ۔

ٹوکیو: جاپان کے طول وعرض میں ایک گڑیا ’اوکائیکو‘ کے چرچےجس کے بارے میں کہا جاتاکہ اس کے بال عین انسانوں کی طرح بڑھتے ۔

اوکائیکو کا ایک اور نامجسے ’ہوکائیڈو کی آسیب زدہ گڑیا‘ بھی کہا جاتا ۔ اس وقت ایواما زیما نامی مندر میں موجود اس گڑیا کے بارے میں مبینہ طور پر کہا جاتاکہ اس میں کسی چھوٹی بچی کی روح سرایت کرچکیجس کا ثبوت اس کے بڑھتے ہوئے بال ۔

قدیم داستانوں کے مطابق یہ مشہور جاپانی روایتی گڑیا 1918 میں ہوکائیڈو کے رہائشی، 17 سال لڑکے آئیکیچی سوزوکی نے اپنی چھوٹی بہن کےلیے خریدی تھی۔ اس 3 سالہ بچی کا نام کائیکوکو بتایا جاتا جسے اس گڑیا سے بہت محبت تھی۔ کائیکوکو اس گڑیا کواپنے سینے سے لگا کر رکھتی اور اسے اپنے پاس لے کر سوتی تھی لیکن پھر یہ ہوا کہ کائیکوکو کو ٹھنڈ سے بیماری ہوئی اور وہ انتقال کرگئی، جس کے بعد کہانی کا خوفناک موڑ شروع ہوگیا۔

بچی کے اہلِ خانہ نے گڑیا ایک مندر کے حوالے کردی اور اسے ’اوکائیکو‘ کا نام دیا گیا لیکن کچھ روز بعد گڑیا کے بال مخصوص انداز میں بڑھنے لگے جس سے ظاہر ہوتا تھا کہ شاید اس میں کائیکوکو کی روح سماگئی ۔

پھر 1938 میں بچی کے اہلِ خانہ نے گڑیا کو ایک دوسرے مندر کے حوالے کردیا اور اس سے وابستہ راز بھی بیان کردیا گیا۔ اب گزشتہ 80 برس سے یہ گڑیا وہاں موجود ۔ پورے جاپان سے لوگ اس گڑیا کو دیکھنے آتےلیکن کسی کو بھی اس کی تصویر لینے کی اجازت ن۔

مندر میں موجود پجاریوں کا اصرارکہ گڑیا کے بال بڑھ ر اور وہ ان وقفے وقفے سے تراشتےجب کہ اب بھی اس کے بال سر لے کر گھٹنوں تک دیکھے جاسکتے ۔ بعض افراد کہتےکہ جب گڑیا کا سائنسی معائنہ کرایا گیا تو معلوم ہوا کہ اس کے بال بچوں جیسے ۔ کچھ لوگوں کا اصرارکہ اس کا منہ کچھ کھلاجس کے اندر نئےدانت اگ ر ۔ پراسرار گڑیا پر کئی کہانیاں، ناول اور فلمیں تشکیل دی گئیجب کہ اسٹیج ڈراموں میں بھی اس کی تمثیل پیش کی جاتی ۔