’پیدائش کا عمل رکنا چاہیے کیونکہ زندگی تکالیف سے بھری ہے‘

ڈیوڈ بیناٹر کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ وہ ایک ’دنیا میں مایوس ترین فلسفی ہیں‘ کیونکہ وہ اس بات پر قائل ہو چکے ہیں کہ زندگی اتنی بری ہے کہ وہ گزارنے کے قابل نہیں۔
جنوبی افریقہ کی یونیورسٹی آف کیپ ٹاؤن کے ڈپارٹمنٹ آف فلاسفی کے ڈائریکٹر ڈیوڈ بیناٹر اپنی کتاب ’ Better Never To Have Been‘ میں لکھتے ہیں کہ پیدا ہونا انتہائی شدید اور خوفناک بدقسمتی ہے۔
اسی لیے 51 سالہ بیناٹر کا کہنا ہے کہ سب سے اچھا کام جو انسان کر سکتا ہے وہ یہ ہے کہ پیدائش کے عمل کو روک کر اس کرہ ارض سے انسانیت کا مکمل خاتمہ کر دے۔
دنیا بھر کی کم عمر مائیں
ماؤں کی جان بچانے والی ویڈیو لِنک کِٹ
بی بی سی منڈو نے بیناٹر سے بات کی اور ’زچگی مخالف‘ فلسفے کے بارے میں جاننے کی کوشش کی اور ان سے پوچھا کہ کیا وہ اس سوچ کو اپنی زندگی پر لاگو کرتے ہیں۔
زچگی مخالف فلسفیانہ رجحان کیا کہتا ہے؟
زچگی مخالف فلسفہ کہتا ہے کہ نئے لوگوں کو اس دنیا میں نہیں لانا چاہیے۔
کیوں؟
مجھے ایسا لگتا ہے کہ اس کی کئی بہتر وجوہات ہیں۔ نئے لوگوں کو اس لیے اس دنیا میں نہیں لانا چاہیے۔ اس کی ایک وجہ تو وہ برے تجربات ہیں جس سے انھیں گزرنا پڑے گا۔
اس حوالے سے بہت سی توجیحات ہیں لیکن ان میں سے ایک یہ ہے کہ انسان کے ہونے میں بہت سی تکالیف اور درد ہیں، اس لیے نئے انسانوں کو اس دنیا میں لانا غلط ہے۔