طالبان کی قید سے رہا ہونے والے کینیڈین شہری جوشوا بوئل 15 الزامات میں گرفتار

پانچ سال تک طالبان کے قبضے میں رہنے والے کینیڈین شہری جوشوا بوئل کو جنسی تشدد، غیر قانونی طور پر حراست میں رکھنے اور موت کی دھمکی دینے کے الزام میں گرفتار کر لیا گیا ہے۔

کینیڈا کے ذرائع ابلاغ کے مطابق 34 سالہ جوشوا بوئل کو جن 15 مختلف الزامات کا سامنا ہے ان میں جنسی تشدد، غیر قانونی طور پر حراست میں رکھنے اور موت کی دھمکی دینے جیسے الزامات شامل ہیں۔

کینیڈین میڈیا کا کہنا ہے کہ جوشوا بوئل کے خلاف میبنہ الزامات ان کے اوٹاوا واپس آنے کے بعد عائد کیے گئے ہیں۔

جوشوا بوئل کو جنسی طور پر ہراساں کرنے کے آٹھ الزامات، غیر قانونی قید میں رکھنے کے دو الزامات کے علاوہ، پولیس کو گمراہ کرنے کا ایک الزام، موت کی دھمکی دینے اور نقصان دہ مادہ ٹرازوڈون کا انتظام کرنے کا الزام شامل ہے۔

طالبان کے ہاتھوں اغوا ہونے والے جوشوا بوئل اور کیٹلن کولمین کی کہانی

طالبان نے میری بیوی کو ریپ کیا اور بیٹی کو مار ڈالا: بازیاب مغوی جوشوا بوئل

بالآخر امریکی مغوی کولمین کا ‘ڈراؤنا خواب’ ختم

پانچ برس سے مغوی غیر ملکی خاندان کرم ایجنسی سے ’بازیاب‘

ان کے وکیل ایرک گرانجر نے بی بی سی کو ایک ای میل میں بتایا کہ ’ان کے موکل بے گناہ ہیں اور وہ کبھی بھی کسی مصیبت میں نہیں گھرے تھے۔‘

ایرک کے مطابق ’جوشوا بوئل کے خلاف ابھی تک کوئی ثبوت فراہم نہیں کیا گیا ہے۔ ہم ان الزامات کے خلاف ثبوت حاصل کرنے اور ان کا دفاع کرنے کے منتظر ہیں۔‘

اطلاعات کے مطابق یہ جرائم اوٹاوا میں 14 اکتوبر سے 30 دسمبر کے درمیان مبینہ طور پر کیے گئے۔

جوشوا بوائل کو بدھ کو عدالت میں پیش کیا جائے گا۔

خیال رہے کہ کینیڈین شہری جوشوا بوئل اور ان کی 28 سالہ امریکی بیوی کیٹلن کولمین کو سنہ 2012 میں افغاسنتان میں ایک کیمپنگ ٹرپ کے دوران شمالی افغانستان سے اغوا کیا گیا تھا۔

پاکستان آرمی نے گذشتہ برس اکتوبر میں ایک آپریشن کے دوران جوشوا بوئل، ان کی بیوی تین بچوں کو طالبان کی قید سے آزاد کروایا تھا۔

اپنی رہائی کے بعد کینیڈا پہنچنے پر میڈیا سے بات کرتے ہوئے جوشوا بوئل نے کہا تھا اغوا کے دوران اُن کی بیوی کو ریپ اور ایک بیٹی کو قتل کیا گیا۔