ترکی کی فوج شام میں داخل

ترک میڈیا کا کہنا ہے کہ کرد ملیشیا وائی پی جی کے خلاف کارروائی کے دوران ترکی کی فوج نے شام کی سرحد کے اندر پانچ کلومیٹر تک پیش قدمی کی ہے۔
ترک صدر رجب طیب اردوغان کی جانب سے کرد جنگجوؤں کو ’بہت جلد‘ کچلنے کا عندیہ دیا ہے
ترکی نے شام میں کرد ملیشیا کے خلاف کارروائی پر بین الاقوامی تنقید کو مسترد کیا ہے
ترکی کے میڈیا کے مطابق عفرین میں داخلے کے بعد انہیں کسی قسم کی مزاحمت کا سامنا نہیں کرنا پڑا
نقرہ نے کہا ہے کہ اس دوران کسی شہروں کو کسی بھی قسم کا نقصان نہیں پہنچا۔ لیکن برطانیہ میں قائم انسانی حقوق کی تنظیم کا کہنا ہے کہ کم سے کم 18 شہری مارے گئے ہیں
ترکی نے وائی پی جی کو دہشت گرد تنظیم قرار دیتا ہے جبکہ شام میں شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ کے خلاف جنگ میں اس تنظیم کو امریکی اتحاد کی حمایت حاصل ہے
امریکہ نے مطالبہ کیا ہے کہ عام شہریوں کی ہلاکتوں سے بچاؤ کے لیے ‘تحمل’ کا مظاہرہ کرے۔ ترکی کی شام میں کارروائی کے خلاف ترکی میں کرد باشندوں نے احتجاجی مظاہرے بھی کیے ہیں جن کو روکنے کے لیے پولیس تعینات کی گئی ہے