اسامہ کی لاش کی تصاویر جعلی ہیں، القاعدہ سربراہ کو مارنے والے فوجی کا دعویٰ

پینٹاگون لاش کی اصلی تصاویر جاری کرے، اسامہ کو گولی مارنے والی فوجی کا مطالبہ، واشنگٹن: القاعدہ کے سربراہ اسامہ بن لادن کو گولی مارنے والے امریکی نیوی سیل رابرٹ اونیل نے دعویٰ کیاکہ اسامہ کی لاش کی جاری شدہ تصاویر جعلی ۔ یہ بھی پڑھیں:  امریکہ کا پاکستان کو ’نوٹس‘ کیا اور کتنا سنگین ؟ ایک  اخبار کو انٹرویو دیتے ہوئے رابرٹ اونیل نے 11 مئی 2011ء کو پاکستان کے شہر ایبٹ آباد میں مارےامریکا کو مطلوب ترین شخص اسامہ بن لادن کی کھوج  لگانے اور ان مارنے میں اپنے کردار سے متعلق آگاہ کیا۔ یہ بھی پڑھیں:  طالبان کی قید سے رہا ہونے والے کینیڈین شہری جوشوا بوئل 15 الزامات میں گرفتار رابرٹ اونیل نے کہا کہ اسامہ بن لادن کی لاش کی جو تصاویر جاری کی گئی تھیں وہ جعلیپینٹاگون کو دنیا کی غلط فہمی دور کرنے کے لیے لاش کی  اصلی تصاویر جاری کرنی چاہئیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ جب انہوں نے گولی ماری تو اسامہ بن لادن کا سر دو حصوں  میں تقسیم ہوگیا تھا اور اس کے بعد جو تصاویر شائع کی گئیں وہ اصلی ن تھیں۔ یہ بھی پڑھیں:  امریکہ اور پاکستان کے کشیدہ تعلقات میں اربوں ڈالر کی امداد پر بھی تنازع رابرٹ اونیل نے بتایا کہ انہوں نے یہ باتیں اپنی کتاب میں ن لکھیں اس لیے وہ انٹرویو میں یہ سب کچھ کہہ ر ۔ رابرٹ کے بقول اسامہ کو گولی مارنے کے بعد پینٹکس کیمرے سے 20 تصاویر کھینچی گئیں جو واشنگٹن کو  جاری کرنی چاہئیں۔ یہ بھی پڑھیں:  ٹرمپ کی پاکستان مخالف ٹویٹ پر پاکستانیوں کا غصہ اور انڈین خوش امریکی نیوی سیل نے کہا کہ وہ اسامہ کو گولی مارتے وقت بالکل خوف زدہ نبلکہ وہ اس کارروائی کے دوران پرسکوناور اس بات پر خوش ہوتےکہ  تاریخی لمحے کا براہ راست حصہ بننے جار ۔ یہ بھی پڑھیں:  جوہری ہتھیار چلانے کا بٹن ہر وقت میز پر ہوتا : کم جونگ ان کی امریکہ کو دھمکی

متعلقہ خبر یں

روزانہ خبریں اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔