فلسطینیوں کا روپ دھارے اسرائیلی ایجنٹس ’مستعربین‘ کا انکشاف

اسرائیلی افواج
اسرائیلی افواج

اسرائیلی ایجنٹ فلسطینیوں میں شامل ہوکر ان شہید کرنے یا اسرائیلی افواج کی جانب دھکیلنے کی کوشش کرتے

فلسطین: فلسطینیوں کے روپ میں چھپے اسرائیل ایجنٹس کا انکشاف ہواجو موقع ملتے ہی فلسطینیوں کو مار ڈالتےیا اسرائیل فوج کے سامنے لے آتےتاکہ ان قتل کردیا جائے اس گروپ کو ’مستعربین‘ کا نام دیا گیا ۔

عرب ویب سائٹ الجزیرہ کی ایک رپورٹ کے مطابق یہ ایجنٹس فلسطینیوں کے لب و لہجے میں عربی بولتے ، عین عربوں جیسا برتاؤ کرتےان کے چہرے فلسطینی رومال سے ڈھکے ہوتے ، یہ اسرائیل مخالف مظاہروں میں اسرائیل کے خلاف نعرے لگاتےجب یہ فلسطینی مظاہرین میں شامل ہوتے تو اچانک اپنے لباس میں چھپی گنیں ان پر تان لیتےاور ان شہید کردیتےیا پھر ان دور موجود اسرائیلی افواج میں بیٹھے اسنائپرز کا تر نوالہ بنادیتےیا اسرائیلی افواج آگے بڑھ کر ان فلسطینیوں کو دبوچ لیتیاس کے بعد تمام مظاہرین غائب ہوجاتےاور صرف ایک نعرہ سنائی دیتا ’ مستعربین‘ ۔ اس خبر کو بھی پڑھیں : بھارتی فلموں کے لیجنڈ اداکار ششی کپور چل بسے

مستعربین یا مستعروِم عبرانی زبان کا لفظجو عربی لفظ مستعرب سے لیا گیا ۔ یہ لفظ کسی ایسے شخص کے بارے میں کہا جاتاجو عرب زبان اور تہذیب سے اچھی طرح واقفیت رکھتا ہو۔ لیکن اسرائیلی تناظر میں مستعربین ایسے لوگوں کو کہتےجو خاص خوفناک مشن لے کر فلسطین کی صفوں میں جاگھستےاور ان نقصان پہنچاتے ۔ اس لحاظ سے یہ اسرائیل کے سب سے چالاک ایجنٹ ۔

کہتےکہ اسرائیل نے مستعربین کا پہلا یونٹ 1942ء میں بنایا تھا۔ اسرائیلی ماہر اینٹوئن شالاٹ کے مطابق مستعربین اسرائیلی ایجنٹ ہوتےجو فلسطینیوں کی معلومات جمع کرتےاور فلسطینیوں کی سرگرمیوں اور احتجاج کو ناکام بناتے ان کی پشت پر اسرائیلی افواج کی حمایت موجود ۔ اس خبر کو بھی پڑھیں : رشی کپور کی مرنے سے پہلے پاکستان دیکھنے کی خواہش

ان ایجنٹوں کو سخت فوجی تربیت فراہم کی جاتی ۔ وہ دھیرے دھیرے فلسطینیوں کی طرح سوچنے لگتے ۔ ان کا مشن خفیہ ہوتااور ایک کارروائی کے بعد وہ غائب ہوجاتے اور دوسرا یونٹ ان کی جگہ لے لیتا ۔

شالاٹ کہتےکہ ’یہ فلسطینیوں کی طرح فر اس خبر کو بھی پڑھیں : بلوچستان کل اور آج (آخری حصہ)

فر عربی بولتےاور ان کے لہجے میں ہی بات کرتے ، چار سے چھ ماہ کی تربیت میں وہ نماز اور روزے کی معلومات بھی حاصل کرلیتے ، سب سے اہم مستعربین یونٹ رائمون تھا جو 1978ء سے لے کر 2005ء تک سرگرم رہا  جو غزہ کی پٹی میں کارروائی کرتا تھا۔ پھر 80ء اور 90ء کی دہائی میں شمشون گروہ سرگرم رہا اس خبر کو بھی پڑھیں : روس میں ڈرون تباہ کرنے والے ہتھیار کے کامیاب تجربات

اسی طرح 1980ء کا ڈووڈیون 217 ایلیٹ یونٹ سابق اسرائیلی وزیرِ اعظم ایہود بارک نے بنایا تھا جو مغربی کنارے پر اب بھی سرگرم ۔

فلسطینی صحافی راشہ ہرزلا کے مطابق جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یروشلم کو اسرائیلی دارالحکومت قرار دیا تو رملہ میں مستعربین کے کئی ایجنٹ مظاہرین میں داخل ہوئے اور تین نوجوان فلسطینی مظاہرین کو پکڑ کر لے ۔ یہ ایجنٹ 10 ماہ سے وہاں مقیماور ان کے لباس بھی فلسطینیوں جیسے ۔ انہوں نے 13 دسمبر 2017ء کو کامیاب کارروائی کی اور فلسطینیوں کو نقصان پہنچایا۔

ان میں پانچ افراد شاملجنہوں نے پہلے ہوائی فائرنگ کی اور اس کے بعد لوگوں کو سامنے سے نشانہ بنایا۔ ان میں سرخ شرٹ پہنے ایک شخص نے بندوق لہرا کر مجھے کہا کہ قریب مت آؤ اور اس دوران اسرائیلی افواج بھی قریب تر آگئی۔ راشہ کے مطابق مستعربین اسرائیلی افواج پر پتھر پھینک رلیکن صیہونی سپاہیوں نے ان کچھ نہ کہا۔ اس سے قبل مستعربین نے دو فلسطینیوں کو قریب سے سر اور ٹانگوں پر گولیاں ماری تھیں۔ پہلا شخص فوری طور پر شہید ہوگیا تھا جبکہ دوسرا نوجوان محمد زاہدے اب معذور ہوچکا۔ اس خبر کو بھی پڑھیں : بائیس سال سے جوان دکھائی دینے والی چینی نیوز اینکر

مستعربین کی ہولناک کارروائیوں سے اب فلسطینی شدید محتاط ہوچکے ۔ ان کی ایک نشانی یہکہ وہ ڈھیلی شرٹ پہنتےاور ان پینٹ کے اندر اڑس کر رکھتےتاکہ وہاں ہتھیار چھپاسکیں۔ اسی طرح اگر کوئی شخص مظاہرین کو اسرائیلی فوج کے قریب لے جانا چا تب بھی فلسطینی ہوشیار ہوجاتے ۔