اقوام متحدہ کی پابندیاں بھی جوہری ہتھیاروں کی تیاری سے نہیں روک سکتیں، شمالی کوریا

shumali Korea

منیلا: شمالی کوریا نے مذاکرات کی تمام پیشکشوں کو مسترد کرتے ہوئے کہاکہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی جانب سے عائد پابندیاں بھی ہمیں جوہری ہتھیاروں کی تیاری سے ن روک سکتیں۔

غیر ملکی خبررساں ایجنسی کے مطابق شمالی کوریا نے دھمکی دیکہ امریکا کو اپنے کیے کی قیمت چکانی پڑے گی اور اقوام متحدہ کی پابندیاں اسے جوہری ہتھیاروں کی تیاری سے ن روک سکتیں۔ فلپائن کے دارالحکومت منیلا میں منعقد ہونے والے آسیان ریجنل فورم سے خطاب کرتے ہوئے شمالی کوریا کے وزیر خارجہ ری یانگ ہو نے کہا کہ شمالی کوریا کسی بھی صورت میں اپنے جوہری ہتھیاروں اور بیلسٹک میزائلز کو مذاکرات کی میز پر ن رکھے گا۔ انہوں نے کہا کہ جب تک شمالی کوریا کے خلاف امریکا کی معاندانہ پالیسی اور ایٹمی حملے کا خطرہ مکمل طور پر ختم ن ہو جاتا تب تک ان کا ملک ایٹمی فورسز کی تشکیل کے راستے سے ایک انچ بھی پیچھے ن ہٹے گا۔

فورم میں امریکی وزیرخارجہ ریکس ٹلرسن بھی موجودجنہوں نے کہا کہ فی الحال امریکا شمالی کوریا سے مذاکرات ن کر رہااور اس وقت تک کوئی بات چیت ن ہو گی جب تک شمالی کوریا بیلسٹک میزائل کے تجربات بند ن کرتا۔ انہوں نے کہا کہ اگر شمالی کوریا یہ اشارہ دینا چاہتاکہ وہ مذاکرات کے لیے تیارتو بہترین طریقہ یہکہ وہ اپنے بیلسٹک پروگرام کو بند کر دے۔

قبل ازیں شمالی کوریا کی سرکاری نیوز ایجنسی کی جانب سے جاری بیان میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی جانب سے عائد کی جانے والی نئی پابندیوں پر تنقید کرتے ہوئے امریکا کو دھمکی دی گئی کہ پابندیوں کا مسودہ تیار کرنے اور جرائم کا ارتکاب کرنے پر اسے بھاری قیمت چکانی پڑے گی۔ شمالی کوریا نے قرارداد کے حق میں ووٹ دینے پر چین اور روس کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ جن ملکوں نے امریکی خوشنودی کے لیے پابندیوں کے حق میں ووٹ دیا ان کا بھی احتساب کیا جائے گا۔

گزشتہ روز جنوبی کوریا کے وزیرخارجہ کانگ کیونگ واہ نے اپنے شمالی کورین ہم منصب سے ملاقات کی اور ان پر زور دیا کہ وہ جنوبی کوریا کے ساتھ فوجی سطح پر مذاکرات کی پیشکش کو قبول کر لے تاکہ خطے میں پائی جانے والی کشیدگی میں کمی ہو سکے تاہم شمالی کوریا کے وزیر خارجہ ری یانگ ہو نے فوری طور پر اس پیشکش کو یہ کہہ کر مسترد کر دیا کہ مذاکرات کی پیشکش نیک نیتی پر مبنی ن۔

خیال ر کہ گزشتہ دنوں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے شمالی کوریا کے بیلسٹک میزائل پروگرام کی پاداش میں اس پر نئی پابندیوں کا بل منظور کیا تھا جس کے حق میں تمام 15 رکن ممالک نے ووٹ دیے ۔ نئی پابندیوں کے بعد شمالی کوریا کی معیشت کو ایک ارب ڈالر کا نقصان ہو گا۔