پاکستان کیلیے امریکی پالیسی افغانستان میں اس کے کردار سے مشروط ہے، ریکس ٹلرسن

امریکی وزیرخارجہ ریکس ٹلرسن کا کہناکہ پاکستان کیلیے امریکی پالیسی افغانستان میں اس کے کردار سے مشروط . امریکی وزیرخارجہ ریکس ٹلرسن آج ایک روزہ دورے پرپاکستان پہنچیں گے۔ پاکستان آنے سے قبل اپنے بیان میں ان کا کہناکہ میانمارمیں روہنگیا مسلمانوں کے ساتھ سلوک پرتشویش ، عالمی قوانین کی روشنی میں اقلیتوں کےساتھ امتیازی سلوک کےخلاف میانمارپرمحدودپابندیاں بھی زیرغور، امریکا کو راکھائن ریاست میں مسلمان اقلیتوں پر ہونے ظلم پر تشویشجب کہ اقلیتوں پر ظلم کرنے والے عناصر کو سزا دینا ضروری ۔ امریکی محکمہ خارجہ کی جانب سے کہا گیا کہ غیر ریاستی عناصر بھی سزا کے مستحقجو اقلیتوں پر ظلم کرر ،  امتیازی سلوک کے خلاف احتسابی طریقہ کاراپنانے پرغورکرر ۔ امریکی وزیر خارجہ ریکس ٹلرسن پاکستان پہنچنے پرڈونلڈ ٹرمپ کی افغانستان کے حوالے سے موقف اور پاکستان کے کردار پر بات کریں گے۔پاکستان کے دورے کے بعد امریکی وزیر خارجہ بھارت جائیں گے۔ ریکس ٹِلرسن افغانستان کا دورہ مکمل کرنے کے بعد عراقی دارالحکومت بغداد پہنچ۔ افغانستان کی طرح عراق بھی وہ ایک غیر اعلانیہ دورے پر ہی۔ اس سے قبل ریکس ٹلرسن ایک روزہ دورے پر کابل پہنچے جہاں انہوں نے افغان صدراشرف غنی اور چیف ایگزیکٹو عبداللہ عبداللہ سے ملاقات کی۔ افغانستان میں میڈیا سے گفتگو میں ریکس ٹلرسن  نے کہا کہ  پاکستان سے دہشتگردوں کی سپورٹ ختم کرنے کیلئے اقدامات کرنے کی درخواست کی ۔ انہوں نے کہا کہ واشنگٹن کی اسلام آباد کیلئے پالیسی افغانستان میں امن و استحکام کیلئے اس کے کردارسے مشروطاور امریکا، پاکستان کا مستحکم مستقبل یقینی بنانے کیلئے بھی کام کررہا ۔

متعلقہ خبر یں

روزانہ خبریں اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔