امریکہ کا شام پر حملہ،کس کو نشانہ بنایاگیا؟ترکی کو بڑی خوشخبری سنادی گئی

دمشق/واشنگٹن (آئی این پی)شام میں امریکی فوجی کی کاروائی میں استنبول کے رینا نائٹ کلب پر دہشت گردی کے حملے کی منصوبہ بندی میں ملوث داعش کا اہم رکن اور دہشتگردتنظیم کے سربراہ ابو بکر البغدادی کا قریبی ساتھی عبدر رخمون ازبکی مار اگیا۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق امریکہ کے فوجی حکام کا کہنا ہے‘ کہ اس کی افواج نے شام میں خود کو دولتِ اسلامیہ کہلانے والی شدت پسند تنظیم کے اہم رکن کو ہلاک کر دیا ہے۔
حکام کے مطابق یہ کاروائی مشرقی شام میں میادین کے علاقے کے نزدیک کی گئیازبکستان سے تعلق رکھنے والے عبدر رخمون ازبکی کے بارے میں امریکہ کا کہنا ہے‘ کہ وہ دولت اسلامیہ کے سربراہ ابو بکر البغدادی کا قریبی ساتھی تھا۔امریکہ نے مزید کہا ہے‘ کہ عبدر رخمون ازبکی نے نئے سال کے آغاز میں استنبول کے رینا نائٹ کلب پر دہشت گردی کے حملے کی منصوبہ بندی میں اہم کردار ادا کیا تھا۔ترکی میں پولیس نے اس واقعہ کے مرکزی ملزم عبدل قادر مشاری پوو کو جنوری میں گرفتار کیا تھا۔عبدل رخمون ازبکی پر کیے جانے والے حملے کے متعلق امریکی حکام نے مزید بتایا کہ یہ ایک زمینی حملہ تھا۔واشنگٹن ڈی سی میں امریکی سینٹرل کمانڈ کے ترجمان جان تھامس نے مزید کہا کہ اس سے زیادہ اور کوئی معلومات ابھی نہیں‘ دی جا سکتی۔یاد رہے‘ کہ ترکی میں استنبول کے معروف رینا نائٹ کلب میں سالِ نو کے موقعے پر کم از کم 600 افراد موجود تھے‘ جہاں ایک مسلح شخص نے اندر داخل ہو کر فائرنگ شروع کر دی جس کے نتیجے میں 39 افراد ہلاک ہو گئے‘ تھے۔
ہلاک ہونے والے غیر ملکیوں کا تعلق اسرائیل، فرانس، تیونس، لبنان، انڈیا، اردن اور سعودی عرب سے تھا۔اسلامی شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ نے حملے کے اگلے دن اپنے بیان میں کہا تھا کہ یہ حملہ ان کے ‘ایک سپاہی’ نے کیا تھا۔
روزانہ خبریں اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔