حوثی باغیوں کا سابق یمنی صدر علی عبداللہ صالح کو ہلاک کرنے کا دعویٰ

hoosi baghion
صنعا: یمن کے سابق صدر علی عبداللہ صالح کو حوثی باغیوں نے حملے میں ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔
عرب میڈیا رپورٹس کے مطابق دارالحکومت صنعا میں حوثی باغیوں اور سابق صدر کے وفاداروں کے درمیان گزشتہ چھ دنوں سے شدید لڑائی جاری ہے‘  جس میں دونوں جانب سے ہلاکتوں کی اطلاعات ہیں‘ جبکہ حوثی باغیوں نے اپنے زیرانتظام ریڈیو پر اعلان کیا ہے‘ کہ  مخالفین سے لڑائی کے دوران سابق صدر علی عبداللہ صالح اپنے ساتھیوں سمیت مارے گئے‘ ہیں‘ ۔ ٖحوثی باغیوں نے حملے میں ہلاک ہونے والے سابق صدر کی تصاویر اور ویڈیو بھی جاری کی ہیں‘  تاہم علی عبداللہ کی جماعت پیپلزکانگریس نے اپنے رہنما کے مارے جانے کی تردید کرتے ہوئے ہلاکت کی خبروں کو افواہ اور پروپگینڈا قرار دیا ہے۔
قبل ازیں پیر کی صبح حوثی باغیوں نے صنعا میں معزول صدر کے گھر پر حملہ کرکے اسے تباہ کردیا تھا  تاہم حملے کے وقت سابق صدر گھر میں موجود نہیں‘ تھے۔
علی عبداللہ صالح  30سال تک یمن کے حکمران رہے‘ اور حوثی باغیوں نے ان کی حکومت کا تختہ الٹ کر ان کے طویل اقتدار کا خاتمہ کردیاتھا۔ سابق صدر کی ہلاکت کی اطلاع پر سعودی فوجی اتحاد نے صنعا کو حوثیوں سے خالی کرانے کا حکم دیا ہے‘ جب کہ یمنی فوج کی قیادت نے 7بریگیڈز کو مارب صوبے سے دارالحکومت میں جانے کی ہدایت کردی ہے۔
روزانہ خبریں اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔