امریکہ کا پاکستان کو ’نوٹس‘ کیا اور کتنا سنگین ہے؟

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ٹویٹ کے ذریعے اپنے ارادے تو ظاہر کر دیے ہیں لیکن ایسا کیا ہے جو امریکہ مسلسل پاکستان سے مانگ رہا ہے۔

اسلام آباد اور واشنگٹن میں سفارتی اور صحافتی ذرائع بتا رہے ہیں کہ امریکہ نے پاکستان کو واضح طور پر بتا دیا ہے کہ اگر اس کے مطلوبہ شدت پسندوں کے خلاف کارروائی نہ کی تو پھر امریکہ یہ کارروائی خود پاکستان میں کہیں بھی کرنے کا مصمّم ارادہ رکھتا ہے۔

اس بارے میں اگلے 24 سے 48 گھنٹوں کی بات امریکہ حکام نے کرکے صورتحال مزید واضح کر دی ہے۔

اسی بارے میں مزید پڑھیے
’سوچ سمجھ کر جماعت الدعوۃ کے خلاف کارروائی کر رہے ہیں‘

’پاکستان نے کئی برسوں سے ڈبل گیم کھیلی ہے‘

امریکہ اور پاکستان ایک دوسرے کا کیا بگاڑ سکتے ہیں؟

نائب امریکی صدر مائیک پینس نے گذشتہ دنوں افغانستان میں اس جانب ایک اشارہ یہ کہہ کر دیا کہ صدر ٹرمپ نے پاکستان کو نوٹس دیا ہوا ہے۔

یہ نوٹس کیا ہے اور کتنا سنگین ہے اس بارے میں نہ تو انھوں نے نہ ہی پاکستانیوں نے کوئی وضاحت کی لیکن پاکستان فوج کے ترجمان میجر جنرل آصف غفور نے ایک اخباری کانفرنس میں ایک تو نوٹس کی بات پر ناراضی کا اظہار کیا اور دوسرا کہا کہ امریکہ کو پاکستانی سرزمین پر کسی بھی یکطرفہ کارروائی سے پرہیز کرنا چاہیے۔

وزیر دفاع خرم دستگیر نے بھی ٹویٹ میں کہا کہ پاکستان اپنی حفاظت کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے۔ ان بیانات سے واضح ہے کہ امریکہ کیا چاہ رہا ہے یا کیا دھمکی دے رہا ہے۔

امریکی اور پاکستانی حکام کی اب تک کی گفتگو سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکہ شدت پسندوں کے خلاف خصوصاً افغانستان اور انڈیا میں سرگرم گروپوں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کر رہا ہے اور ایسا نہ کرنے کی صورت میں اس نے یکطرفہ کارروائی کی دھمکی دے رکھی ہے۔