کوئٹہ: پولیو ورکر ماں بیٹی حملے میں ہلاک

کوئٹہ میں تشدد کے واقعات میں دو خواتین پولیو ورکرز سمیت چار افراد ہلاک اور ایک شخص زخمی ہوگیا ہے۔

خواتین پولیو ورکرز پر حملہ ہزارگنجی کے علاقے میں کیا گیا۔

مزید پڑھیے
پاکستان اس سال بھی ’پولیو فری‘ نہ ہو سکا

سمارٹ فون سے پولیو کے خلاف جنگ

’پولیو کے قطرے پلانے سے انکار میں ڈاکٹرز بھی شامل‘

بلوچستان: 16 ہزار بچے پولیو کے قطروں سے محروم

شالکوٹ پولیس سٹیشن کے ایک اہلکار نے بتایا کہ اس علاقے میں دو خواتین پولیو ورکرز بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلانے میں مصروف تھیں کہ نامعلوم مسلح افراد نے ان پر حملہ کیا جس کے نتیجے میں دونوں خواتین موقع پر ہلاک ہوگئیں۔

ہلاک ہونے والی ماں اور بیٹی تھیں جو کہ پولیو مہم کے چوتھے روز اس علاقے میں کام کر رہی تھیں۔

جس وقت دونوں خواتین پر حملہ کیا گیا اس وقت ان کے ساتھ سکیورٹی اہلکار موجود نہیں تھے۔

پولیس اہلکاروں پر حملے
اس سے قبل نامعلوم مسلح افراد نے سریاب فلائی اوور پر پولیس اہلکاروں پر حملہ کیا۔

سول لائنز پولیس سٹیشن کے ایک اہلکار نے بتایا کہ پولیس کے ریپڈ ریسپانس گروپ (آر آر جی) کے تین اہلکار اپنی ڈیوٹی پر جارہے تھے۔

نامعلوم مسلح افراد نے تینوں اہلکاروں پر سریاب فلائی اوور پر حملہ کیا۔

حملے کے نتیجے میں دو اہلکار ہلاک اور ایک زخمی ہو گیا۔

سریاب فلائی اوور پر ڈیڑھ ہفتے کے دوران پولیس اہلکاروں پر یہ دوسرا حملہ تھا۔

6 جنوری کو اس فلائی اوور پر ہونے والے حملے میں آر آر جی کا ایک اہلکار ہلاک اور ایک زخمی ہوا تھا۔

9 جنوری کو بلوچستان اسمبلی کی عمارت کے قریب پولیس اہلکاروں کو خود کش حملے کا نشانہ بنایا گیا تھا۔

اس حملے میں 4 پولیس اہلکار ہلاک اور 8 سے زائد زخمی ہوئے تھے۔

رواں سال کے دوران کوئٹہ شہر میں پولیس اہلکاروں پر ہونے والے حملوں میں اب تک 8 اہلکار ہلاک اور 8 سے زیادہ زخمی ہوئے ہیں۔

گذشتہ سال بھی کوئٹہ اور بلوچستان کے دوسرے علاقوں میں ہونے والے حملوں میں افسروں سمیت پولیس کے 52 اہلکار ہلاک اور 81 زخمی ہوئے تھے۔