پانامہ کیس فیصلہ آ گیا

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) سپریم کورٹ کے 5 ججز پر مشتمل بنچ نے پانامہ کیس کا تاریخی فیصلہ سنا دیا۔ سپریم کورٹ کے ججز نے فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ وزیر اعظم نواز شریف اور ان کے دونوں صاحبزادے حسن اور حسین جے آئی ٹی کے سامنے پیش ہوں۔ نیب اور دیگر ادارے اپنا کام کرنے میں ناکام ر اسلئے جے آئی ٹی بنائی گئی۔ رپورٹ کے مطابق 540 صفحات پر مشتمل فیصلہ جسٹس اعجاز افضل نے تحریر کیا اور فیصلے میں ججز کی رائے تقسیم کا شکار دکھائی دیتی ۔ تین ججز فیصلے میں ایک طرف اور دو ججز ایک طرف ۔ فیصلے کے حوالے سے ججز کی رائے تقسیم کا شکار نظر آ رہی ۔ عدالتی فیصلے میں کہا گیا کہ رقم کیسے منتقل ہوئی ، اس کی تحقیقات ابھی کی جانی ۔ اس جے آئی ٹی میں چھ ممبران ہوں گے۔ ان ممبران میں ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل ایف آئی اے، نیب کا ایک رکن، ایس ای سی پی کے ایک رکن، سٹیٹ بینک آف پاکستان کا ایک رکن، اور ایک ایک رکن آئی ایس آئی اور ملٹری انٹیلیجنس سے۔ جسٹس آصف سعید کھوسہ اور جسٹس گلزاراحمد نے اختلافی نوٹ میں وزیر اعظم نواز شریف کو نااہل قرار دینے کی سفارش کی۔ فیصلے میں کہا گیاکہ یہ مشترکہ تحقیقاتی ٹیم دو ماہ میں تحقیقات مکمل کرے اور رپورٹ سپریم کورٹ میں پیش کرے۔ سپریم کورٹ اس رپورٹ کی روشنی میں ایک علیحدہ بینچ تشکیل دے گی۔ احسن اقبال نے کہا کہ آج سپریم کورٹ نے سازش کو ناکام بنا دیا اور جو لوگ شب خون مارنا چاہتےانھیں منہ کی کھانی پڑی ۔ ’عمران خان کے دعوے کہ ان کے پاس نواز شریف کے خلاف ثبوتانھیں عدالت نے تسلیم ن کیا۔ آج پاکستان کے عوام کی فتح ہوئی ۔ آج آئین اور قانون کی جیت ہوئی ۔‘

’نواز شریف چھ ماہ قبل کہتے ‘

پاکستان مسلم لیگ نواز کے رہنما خواجہ آصف نے سپریم کورٹ کا فیصلہ آنے کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہ عدالتِ عظمیٰ نے اکثریت کے ساتھ یہ فیصلہ کیاجو نواز شریف نے چھ ماہ قبل کہا تھا کہ پاناما پر کمیشن بنے، تحقیقات ہوں کیونکہ ہم اس کے لیے تیار ۔ ’ہمارے مخالفین نے جو شہادیں عدالت میں پیش کیں وہ نا کافی تھیں۔‘ ان کا کہنا تھا کہ آج ہم سرخرو ہوئے ۔ جو لوگ یہ خواہش رکھتےکہ وہ نواز شریف کو وزارتِ عظمیٰ سے ہٹانے چاہتےتو میں انھیں بتانا چاہتا ہوں کہ وزیرِ اعظم سنہ 2018 تک وزیرِ اعظم ر گے۔ khawaja_asif_panama پاناما کیس کے فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے پیپلز پارٹی کے سعید غنی نے کہاکہ ان کا یہ موقف کہ پیپلز پارٹی کے مقابلے میں دیگر کے لیے عدلیہ کا معیار الگ ۔ ایک مضبوط عدالتی کمیشن مشترکہ تحقیقاتی ٹی سے بہتر ہوتا۔ پاناما کیس کے فیصلے پر تبصرہ کرتے ہوئے پاکستان پیپلز پارٹی پارلیمینٹیرین کے سیکریٹری اطلاعات مولابخش چانڈیو نے کہاکہ وزیر اعظم کے خلاف جے آئی ٹی بنانا ان پر عدم اعتماد کا اظہار ۔ انھوں نے کہا ’سپریم کورٹ نے فیصلہ نھیں سنایا۔ ابھی تو کیس مزید چلے گا۔ اخلاقی طور پر میاں نواز شریف کو اب مزید وزیراعظم نھیں رہنا چاہیے۔ لیگی وزرا مٹھائیاں بانٹ ر ، شرم کی بات ۔‘ مولابخش چانڈیو نے مزید کہا کہ ’پگڑی گر گئی پر عزت بچ گئی والی بات ھوئی ۔ ملک کے وزیر اعظم اب ماتحت اداروں کے نمائندوں کے سامنے پیش ہوں گے۔‘ پاکستان تحریک انصاف کے رہنما فواد چوہدری نے فیصلے کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’عدالت کا کہناکہ نواز شریف کا دفاع ناقابلِ قبول ۔ تین ججز کہہ رکہ تفتیش کریں اور دو ججز کا کہناکہ وزیراعظم کو نااہل قرار دیں۔ اب انھیں بتانا ہوگا کہ وزیراعظم نے کالا دھن کیسے جمع کیا۔‘ وزیرِ مملکت برائے اطلاعات و نشریات مریم اورنگزیب نے سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’مسلم لیگ نواز ایک بار پھر سرخرو ہوئی اور جھوٹے الزامات لگانے والی پارٹی عدالت سے شرمندہ ہو کر نکلی

متعلقہ خبر یں

روزانہ خبریں اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

Leave a Reply