پانامہ کیس کی تحقیقات کیلئے قائم 6رکنی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم نے پہلے دن کیا ، کیا؟ حیرت انگیزصورتحال

اسلام آباد(آئی این پی )پانامہ کیس کی تحقیقات کیلئے قائم 6رکنی جے آئی ٹی کے سربراہ ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل ایف آئی اے واجد ضیاء نے جوڈیشل اکیڈمی کا دورہ کیا اور جے آئی ٹی کے بعض ارکان نے واجد ضیاء سے غیر رسمی ملاقات بھی کی تاہم جے آئی ٹی باضابطہ طور پر کام کا آغاز نہ کرسکی ، دوسری طرف فیڈرل جوڈیشل اکیڈمی کو جے آئی ٹی کا سیکرٹریٹ ڈکلیئر کردیا گیا ،جے آئی ٹی اپنا پہلا باضابطہ اجلاس ارکان پورے ہونے پر منعقد کرے گی

ایس ایس پی سیکیورٹی جمیل ہاشمی نے جوڈیشل اکیڈمی کا دورہ کر کے سیکیورٹی انتظامات کا جائزہ لیا اور جے آئی ٹی کے سربراہ اور ارکان کو فول پروف سیکیورٹی کی یقین دہانی کرائی ، جے آئی ٹی کی معاونت کیلئے ایف آئی اے اور نجی شعبے سے ماہرین کی خدمات لی جائیں گی ، عدالت عظمیٰ نے ملک کے تمام سرکاری اداروں ،و زارتوں اور ڈویژنوں کو جے آئی ٹی کے ساتھ مکمل تعاون کرنے کا حکم دے رکھا ۔تفصیلات کے مطابق پیر کو سپریم کورٹ کی طرف سے پانامہ کیس کی تحقیقات کیلئے بنائی گئی 6رکنی جے آئی ٹی کے سربراہ واجد ضیاء نے جوڈیشل اکیڈ می کا دورہ کیا جہاں انہوں نے جے آئی ٹی کیلئے قائم سیکرٹریٹ میں انتظامات کا جائزہ لیا ۔ اس دورہ جے آئی ٹی کے بعض ارکان بھی جوڈیشل اکیڈمی پہنچے جنہوں نے واجد ضیاء سے غیر رسمی ملاقات کی ، جے آئی ٹی اپنا پہلا باضابطہ اجلاس ارکان پورے ہونے پر منعقد کرے گی جس میں سپریم کورٹ کی طرف سے پانامہ کیس کے فیصلے اور دستیاب دستاویزی مواد کا تفصیلی جائزہ لیا جائے گا جس کے بعد باضابطہ طور پر تحقیقات کا آغاز کیا جائے گا ۔ ذرائع کے مطابق واجد ضیاء سمیت جے آئی ٹی کے ارکان اپنے دفاتر کی بجائے اب جوڈیشل اکیڈمی بیٹھا کریں گے اور جب تک پانامہ کیس کی تحقیقات مکمل ن ہوتیں اس وقت تک جے آئی ٹی ارکان اپنے متعلقہ محکموں میں ن جائیں گے ۔

دوسری طرف جے آئی ٹی کے سربراہ واجد ضیاء معاونت کیلئے ایف آئی اے سے افسران بھی لیں گے اور ڈی جی ایف آئی اے کو وائٹ کالر کرائمز کے ایکسپرٹ پانچ افسروں کا پینل دینے کا کہا جائے گا اور ان پانچ میں سے ایک افسر جے آئی ٹی کی معاونت کیلئے لیا جائے گا جبکہ نجی شعبے سے بھی ماہرین کی خدمات لی جائیں گی اور توقع کی جا رہیکہ بینکنگ سیکٹر سے ماہرین لیے جائیں گے جن کا فیصلہ جے آئی ٹی کے اجلاس کے دوران کیا جائے گا ۔ جو منی لانڈرنگ سمیت رقوم کی منتقلی سے متعلق تحقیقات میں معاونت کریں گے ۔جے آئی ٹی کے سربراہ اور ارکان کی سیکیورٹی کے لئے آئی جی اسلام آباد نے ایس ایس پی سیکیورٹی جمیل ہاشمی کو ذمہ داری سونپ دیاور جمیل ہاشمی نے فیڈرل جوڈیشل اکیڈمی کا دورہ کر کے سیکیورٹی انتظامات کا جائزہ لیا۔

انہوں نے جے آئی ٹی کے سربراہ واجد ضیاء سے بھی ملاقات کی اور ان فول پروف سیکیورٹی کی فراہمی کی یقین دہانی کرائی ۔ جے آئی ٹی کے سربراہ اور اراکین کو آمد ورفت کے دوران خصوصی سیکیورٹی سکواڈ فراہم کئے جائیں گے جبکہ جوڈیشل اکیڈمی کی سیکیورٹی کو بھی بڑھا دیا گیااور بغیر خصوصی پاس ملازمین کو بھی اندر جانے کی اجازت ن ہوگی ۔