جوڈیشل مارشل لاء کا آئین میں کوئی تصور نہیں، چیف جسٹس

چیف جسٹس
چیف جسٹس

ہم خوش قسمتکہ ہم آزاد ملک میں پیدا ہوئے، چیف جسٹس پاکستان

لاہور: چیف جسٹس پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار نے کہاکہ جوڈیشل مارشل لاء کا آئین میں کوئی تصور ن۔ اس خبرکوبھی پڑھیں: توہین عدالت کیس میں دانیال عزیز پر فردِجرم عائد

لاہور میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے چیف جسٹس پاکستان  نے کہا کہ ہم نے بھی آئین کے تحفظ کا حلف اٹھایا ، قسم کھاتا ہوں کہ اس ملک میں جمہوریت کو کوئی نقصان ن ،جمہوریت کو ڈی ریل ن ہونے دیں گے، پاکستان میں صرف آئین کی پاسداری ہوگی، اس ملک کو آئین اور قانون کے مطابق چلنا ، جوڈیشل مارشل لاء کا آئین میں کوئی تصور ن، انہوں نے کہا کہ کسی کو کوئی شک نہ ہو انصاف بلا تفریق ہوگا اور اس ملک میں انصاف بلا تفریق ہوتا دکھائی دے گا۔ اس خبرکوبھی پڑھیں: زرداری جیسے کرپٹ انسان کے ساتھ کھڑا ن ہو سکتا، عمران خان

اس سے قبل چیف جسٹس پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار نے کیتھڈرل اسکول لاہور میں یوم پاکستان کی مناسبت سے منعقدہ تقریب میں شرکت کی۔ تقریب سے خطاب کے دوران چیف جسٹس پاکستان نے آزادی کی قدروقیمت اور تعلیم کی اہمیت پر روشنی ڈالی، انہوں نے کہا کہ ہم خوش قسمت لوگکہ ہم آزاد ملک میں پیدا ہوئے، تعلیم ہی قوموں کی ترقی کا راز ، میں آج کے دن صرف آپ سے ایک قربانی مانگ رہا ہوں کہ زیادہ سے زیادہ تعلیم حاصل کریں کیونکہ جو قومیں تعلیم حاصل ن کرتیں وہ پیچھے رہ جاتی ۔ اس خبرکوبھی پڑھیں: حکومت نے پٹرول کی قیمت میں ایک بار پھر ہوشربا اضافہ کردیا