ایمنسٹی اسکیم سے پاکستان کے بلیک لسٹ ہونے کا خطرہ

وزیراعظم کے اہم اقتصادی اصلاحاتی پیکج کیلئے بقاکی پہلی
آزمائش شروع ہوگئی ہے۔

اسلام
آباد: فنانشل ایکشن ٹاسک فورس نے پاکستان کی ٹیکس
ایمنسٹی اسکیم پرتشویش کااظہارکرتے ہوئے کہاہے کہ اس کے دہشتگردوں
کی مالی معاونت اورمنی لانڈرنگ کی صورت میں دہشتگردی کیخلاف عالمی
جنگ پرسنگین اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔

وزارت خزانہ کے ذرائع کے مطابق  فنانشل ایکشن ٹاسک فورس نے
اس ضمن میں حکومت پاکستان کو ایک مکتوب ارسال کیا ہے۔ انہوں نے
کہاکہ پاکستان کی جانب سے کوتاہی ہوئی ہے کیونکہ فنانشل ایکشن
ٹاسک  سے ایمنسٹی پیکج کی پیشگی منظوری حاصل نہیں کی گئی۔

مشیرخزانہ ڈاکٹرمفتاح اسماعیل نے  ایکسپریس ٹریبیون سے
گفتگوکرتے ہوئے تصدیق کی کہ فنانشل ایکشن ٹاسک فورس نے ایمنسٹی
سکیم سے متعلق کچھ اعتراضات اٹھائے ہیں تاہم انہوں نے کہاکہ یہ
کوئی پریشانی کی بات نہیں ، قانونی ٹیم نے مجھے یقین دہانی کرائی
ہے کہ مجوزہ پیکج  منی لانڈرنگ کی روک تھام کے بارے میں
عالمی معیارات سے ہم آہنگ ہے ۔انہوں نے کہاکہ وزیراعظم پہلے ہی
یہ اعلان کرچکے ہیں کہ سکیم سے فائدہ اٹھانے والوں کو انسدادمنی
لانڈرنگ ایکٹ 2010 کے تحت قانونی چارہ جوئی سے استثنیٰ نہیں ملے
گا۔

واضح رہے کہ فنانشل ایکشن ٹاسک  فورس منی لانڈرنگ اوردہشت
گردی کیلئے مالی معاونت کی روک تھام کاعالمی ادارہ ہے جس نے رواں
سال فروری میں ابتدائی طورپر پاکستان کوجون تک گرے لسٹ میں شامل
کرنے کافیصلہ کیا تھا۔

پاکستان کوجون میں بلیک لسٹ سے  بچنے کیلئے آئندہ ماہ
فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کوایکشن پلان  پیش کرناہے
جومنظورہونے کی صورت میں ٹاسک فورس جون میں پاکستان کوگرے لسٹ میں
رکھنے کا باضابطہ اعلان کرے گی لیکن اگر پاکستان ایکشن پلان پیش
کرنے میں ناکام رہا تو اسے باضابطہ طورپربلیک لسٹ میں شامل
کردیاجائیگا جس کے منفی اثرات مرتب ہونگے۔

ادھر ٹیکس ایمنسٹی سکیم کو حکومت کے اندرسے بھی مخالفت کاسامناہے
۔فیڈرل بورڈآف ریونیو نے کسی حد تک ٹیکس ایمنسٹی سکیم کی بعض
جزئیات سے خودکوالگ رکھنے کافیصلہ کیا ہے۔ ٹیکس حکام کو ملکی
اثاثوں پررعایت دینے اورانفرادی اور افرادکی انجمنوں سے
متعلق  ٹیکس کے ڈھانچے میں تبدیلیوں پرتحفظات ہیں یہی وجہ ہے
کہ وزیراعظم نے اس سکیم کے اعلان سے متعلق پریس کانفرنس میں ایف
بی آرکے اعلیٰ حکام کومدعونہیں کیا۔

ایف بی آرکے مطابق وزیراعظم نے مناسب ہوم ورک کئے بغیرسکیم کے
اعلان میں جلدبازی کی ۔ انہوں نے کہاکہ اگرچہ ایف بی آر،وزارت
خزانہ اوروزیراعظم آفس سب آف شورٹیکس ایمنسٹی سکیم کے حامی ہیں
لیکن ایف بی آرملکی اثاثوں پرٹیکس چھوٹ کے حق میں نہیں ہے۔

ذرائع کاکہناہے کہ ایف بی آرنے ریئل اسٹیٹ سیکٹر پیکج پربھی
تحفظات کااظہارکیا ہے اور اس کا موقف ہے کہ ریئل اسٹیٹ صوبائی
معاملہ ہے اوروفاقی حکومت  پراپرٹی کے حصول کاحق  نہیں
رکھتی چنانچہ اس آئینی معاملے کی بنیاد پرایمنسٹی سکیم عدالت میں
چیلنج بھی ہوسکتی ہے۔

اس حوالے سے ڈاکٹر مفتاح اسماعیل نے کہاکہ یہ کہنا غلط ہے کہ
حکومت نے ایف بی آ رسے مناسب مشاورت نہیں کی تاہم انہوں نے کہاکہ
بالآخرپالیسی  فیصلے کرناملک کی منتخب قیادت کی ہی ذمہ داری
ہوتی ہے۔