زباں بندی کے فیصلے صرف پاکستان میں آتے ہیں، نواز شریف

یہ ملک پہلے ہی انتشار کا شکار ، صورتحال کا کوئی حل نکالنا چاہیے؛ نواز شریف؛ اسلام آباد: سابق وزیر اعظم نواز شریف کا کہناکہ احتجاج سب کا حقسب کے یکساں حقوقکسی کی زبان بند ن کرسکتے۔ سابق وزیر اعظم نواز شریف نے کمرہ عدالت میں میڈیا سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے کہا زباں بندی، ٹی وی بندی اور اخبار بندی بند ہونی چاہیے، ایسے فیصلے اب صرف پاکستان میں آتے ، میں آئین، قانون اور ووٹ کو عزت دینے کی بات کرتا رہا، میں 22 کروڑ عوام کے حق کی بات کرتا رہا، آپ کس طرح عوام کے حق کو مجروح کر سکتے ؟ اس خبرکوبھی پڑھیں: پانامہ کیس فیصلہ آ گیا سابق وزیر اعظم نے کہا یہ ملک سب کااور سب کے یکساں حقوق ، احتجاج سب کا حقکسی کی زبان بند ن کر سکتے،  یہ ملک پہلے ہی انتشار کا شکار ، صورتحال کا کوئی حل نکالنا چاہیے، احتجاج کرنا بنیادی حق ، مہذب معاشرے میں اسے روکنا بالکل جائز ن۔ واضح ر کہ گزشتہ روز لاہور ہائیکورٹ نے نواز شریف، مریم نواز اور وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی سمیت 16ارکان اسمبلی کی عدلیہ مخالف تقاریر نشر کرنے پر 15 روز کیلئے عبوری پابندی عائد کردی ۔ اس خبرکوبھی پڑھیں: وزیراعظم نے 2013کے کاغذات نامزدگی میں یواےای کا اقامہ ظاہر کیا، دستاویزات

متعلقہ خبر یں

روزانہ خبریں اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔