خیبرپختونخوا میں 1769 افراد سے پولیس سیکیورٹی واپس، رپورٹ سپریم کورٹ میں پیش

چیف جسٹس پاکستان نے آئی جی خیبرپختونخوا کو غیر متعلقہ افراد سے سیکیورٹی واپس لینے کا حکم دیا تھا پشاور: آئی جی خیبر پختونخوا صلاح الدین محسود نے سپریم کورٹ کو بتایاکہ عدالتی حکم کے مطابق صوبے بھر میں 1769 افراد سے پولیس سیکیورٹی واپس لے لی گئی ۔ اس خبرکوبھی پڑھیں: پنجاب حکومت کی کارکردگی بدترین، پوری قوم کو بیمار کردیا، چیف جسٹس سپریم کورٹ پشاور رجسٹری میں چیف جسٹس پاکستان کی سربراہی میں عدالت عظمیٰ کے بینچ نے سیکیورٹی سے متعلق کیس کی سماعت کی، آئی جی خیبرپختونخوا صلاح الدین محسود نے سپریم کورٹ کے احکامات پر عملدرآمد سے متعلق رپورٹ عدالت میں جمع کرائی۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ صوبے میں ایک ہزار 769 افراد سے پولیس کی سیکیورٹی واپس لے لی گئی ۔ اس خبرکوبھی پڑھیں: میرے ججزکی عزت نہ کرنے والا کسی رعایت کامستحق ن، چیف جسٹس چیف جسٹس نے پولیس کی رپورٹ پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ آئی جی خیبر پختونخوا نے بہت اچھا کام کیا، میں ان کی کارکردگی سےمطمئن ہوں، اگر عدالت کسی کوسلیوٹ کرسکتی تو میں آئی جی کو سلیوٹ کرتا ہوں۔ بعد ازاں عدالت کے باہر میڈیا سے بات کرتے ہوئے صلاح الدین محسود نے کہا کہ ہم نے 3 ماہ کے دوران میں 900 افراد سے پولیس سیکیورٹی واپس لی تھی اور اب عدالتی حکم پر مزید ایک ہزار 769 افراد سے سیکیورٹی واپس لی ۔  چیف جسٹس نے سیکیورٹی واپس لینےکے اقدام پرتعریف کی، تعریف اگر صرف میری بھی کیتو پوری پولیس کی ۔ اس خبرکوبھی پڑھیں: جوڈیشل مارشل لاء کا آئین میں کوئی تصور ن، چیف جسٹس

متعلقہ خبر یں

روزانہ خبریں اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔