پاکستان میں بجلی کی لوڈشیڈنگ کب ختم ہوگی؟حکومتی دعوؤں سے تنگ عوام کیلئے خوشخبری،چینی سفارتخانے سے بڑی خبر آگئی

اسلام آباد(آئی این پی)چین ۔پاکستان اقتصادی راہداری(سی پیک) کے
تحت آئندہ سال کے اواخر تک 11ہزار میگاواٹ پیدواری گنجائش کے
11بجلی منصوبے پروگرام سے قبل مکمل کر لیے جا ئیں گے ۔ اسلام
آباد میں چینی سفارتخانے کے ذرائع کے مطابق وفاقی اور صوبائی
حکومتوں کے علاوہ چینی کمپنیاں ملک کو بجلی کی قلت سے نجات
دلانے میں مدد دینے کیلئے انتہائی تیز رفتاری سے اپنا کام کررہی ہیں ۔

ذرائع نے کہا کہ پاکستان اور چین کی حکومتوں کی طرف سے مکمل
خلوص نیت اور سنجیدگی کے ساتھ اس بات کی کوشش کی جا رہی ہے کہ
سی پیک پر پوری طرح عمل درآمد کیا جائے جو عوام کے معیار زندگی
کو بہتر بنانے کی راہ ہموار کر دے گا۔ سی پیک جو کہ فلاحی
منصوبہ ہے زیادہ تر بجلی ،ٹرانسپورٹ اور انفراسٹرکچر سے متعلق
شعبوں کے بارے میں ہے ۔ذرائع نے مزید کہا کہ مجموعی طور پر ایسے
39جلد پایہ تکمیل کو پہنچنے والے منصوبے ہیں جنہیں ان کے مقررہ
ٹائم شیڈول کے اندر مکمل کر لیا جائے گا ۔ ان کی تکمیل کی مدت
پانچ سال ہے ۔ ان منصوبوں کی منظوری اصولی طور پر پاک۔ چین
مشترکہ تعاون کمیٹی (جے سی سی ) نے گزشتہ سال بیجنگ میں منعقدہ
اپنے اجلاس میں دی تھی ۔ پاکستان کی وفاقی اور صوبائی حکومتیں
مکمل اتفاق رائے کے ساتھ سی پیک منصوبوں کی تکمیل میں پوری طرح
مصروف عمل ہیں ۔ ذرائع کے مطابق چینی افرادی قوت کو فراہم کی
جانے والی سلامتی سے پوری طرح مطمئن ہے ۔ پاکستان میں سلامتی کی
صورتحال کافی بہتر ہو گئی ہے ۔ چین کا سفارتخانہ چینی محنت کشوں
کی سلامتی کو یقینی بنانے کیلئے متعلقہ فوجی وشہری ایجنسیوں کے
ساتھ کام کر رہا ہے ۔ چینی حکومتوں کو یقین ہے کہ سی پیک مقامی
لوگوں کیلئے ہزاروں کی تعداد میں روزگار کے مواقع پیدا کرے گا ۔
مجموعی اعداد وشمار سات لاکھ کے لگ بھگ ہو سکتے ہیں ۔

چین سی پیک کے علاقوں میں فلاحی نوعیت کے کام شروع کرنے کیلئے
اپنی کمپنیوں کی حوصلہ افزائی کررہا ہے ۔ گوادر میں ایک سکول نے
پہلے ہی کام شروع کردیا ہے جہاں طلباء کی تعداد300ہے۔گوادر
آزادانہ تجارتی زون پر کام شروع ہوگیا ہے ۔ متعلقہ صنعتیں قائم
کرنے کیلئے ایک پائلٹ ایریا کی نشاندہی بھی کی جا چکی ہے ۔ چینی
حکومت نے یہ بات نوٹ کی ہے کہ سی پیک سے متعلقہ منصوبوں کی
وفاقی وصوبائی دونوں کی اب مکمل ملکیت ہے ۔اسلام آباد میں چینی
سفارتخانہ کے پی کے کے وزیراعلیٰ کی قیادت میں وفد کے حالیہ
دورہ بیجنگ کے نتائج کو سراہتا ہے ۔اس موقع پر روڈشو کا اہتمام انتہائی کامیاب رہا۔

ذرائع نے امید ظاہر کی کہ صوبائی حکومتیں اپنی دلچسپی کے منصوبے
شروع کرنے اور انہیں سی پیک میں شامل کرنے کے لئے اپنا ضروری
ہوم ورک کریں گی ۔ توانائی کو اولین ترجیح دیتے ہوئے
انفراسٹرکچر کے علاوہ ریلوے اور سڑک سے متعلق منصوبے بھی
تیزرفتاری سے شروع کئے جا رہے ہیں ۔ اصولی طور پر اس بات کی
منظوری دی جاچکی ہے کہ پہلے مرحلے میں 9اقتصادی زون سی پیک کے
روٹ کے ساتھ مختلف مقامات پر قائم کئے جائیں گے ۔

کوئلے سے چلنے والے بجلی منصوبوں کے بارے میں ذرائع نے کہا کہ
یہ پلانٹ ماحولیاتی کنٹرول والے طریقوں کے ساتھ تعمیر کئے جائیں
گے اور یہ ٹیکنالوجی کا شاہکار ہوں گے ۔ ذرائع کے مطابق جلد
پایہ تکمیل پر پہنچنے والے منصوبوں کا تعلق زیادہ تر کوئلے
،شمسی ، ہوا اور دیگر ذرائع کی بنیاد پر بجلی پیدا کرنے والے شعبوں سے ہے ۔