پنجابی طالبان کے نام سے8سے زائد دہشت گرد تنظیمیں کام کرہی ہیں،پنجاب میں پشتونوں کی گرفتاریوں پرسینئررہنماپھٹ پڑے

کراچی (آن لائن)عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی )کے مرکزی سیکرٹری جنرل میاں افتخار حسین نے کہاکہ پاناما کیس کے فیصلے پر منافقت کی مٹھائی بانٹی اور کھائی جارہی۔ہم سپریم کورٹ کے فیصلے کو من و عن تسلیم کرتے۔لاہور میں ایک دھماکہ ہواجس کے بعد پختونوں کے گھروں کی تلاشی لی گئی ۔ہم سب کچھ برداشت کرسکتےلیکن اپنی بے عزتی ن ہونے دیں گے ۔منزل پر پہنچے بغیر دہشت گردوں کے سامنے ن جھکیں گے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعرات کو کراچی میں پختون اسٹوڈنٹس فیڈریشن کے صوبائی کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔میاں افتخار حسین نے کہا کہ کسی کو اصولوں کی سیاست سیکھنیتو وہ ہم سے سیکھے ۔کسی پر الزام لگاکر اسے قتل کردینا کسی طور پر بھی درست ن۔مردان یونیورٹی کے طالب علم مشال خان کے قتل میں انتظامیہ اور پولیس ملوث۔مشال کے قتل میں اگر ہمارے پارٹی کے کارکنان تو درکنار اگر ہمارے اپنے بچے بھی ملوث پائےتو ان پھانسی پر لٹکایا جائے تاکہ آئندہ کوئی ایسی جرات نہ کرسکے ۔انہوں نے کہا کہ پانامہ لیکس کے فیصلے پر حکومت اور اپوزیشن مٹھائی بانٹ رہی۔ہمارا موقف واضحکہ ہم سپریم کورٹ کے فیصلے کو مانتے ۔جے آئی ٹی کو نہ ماننا ایک طرح سے عدالتی فیصلے کو نہ ماننا۔ہم جے آئی ٹی کی رپورٹ کو بھی مانیں گے۔اس وقت پاناما کیس کے فیصلے پر منافقت کی مٹھائی بانٹی اور کھائی جارہی۔میاں افتخار حسین نے کہا کہ پنجاب یونیورسٹی میں پختون طلبہ پر تشدد کیا گیا ۔کلاشنکوف کلچر اور سیاست میں تشدد ضیاالحق کی پیداوار۔عوامی نیشنل پارٹی انتہا پسندی کی طرف معاشرے کو لے جانے والوں کے خلاف سینہ سپر ۔پنجاب یونیورسٹی کے معاملے پر ترقی پسندوں ،قوم پرستوں اور میڈیا کے شکر گذارکہ انہوں نے حق کا ساتھ دیا ۔ انہوں نے کہا کہ شناختی کارڈ کے مسئلے پر سیاست ن کرر یہ قومی مسئلہ ۔پختونوں کے شناختی کارڈروک کر انکی شناخت ختم کرنے کی کوشش کی جارہی۔کچھ قوتیں پاکستان کے خلاف ساشیں کررہی۔میاں افتخار حسین نے کہا کہ پنجابی طالبان کے نام سے8سے زائد دہشت گردی کی تنظیمیں کام کرہی ۔ہم پرامن لوگ ۔اگر ہم دہشت گردی کے خلاف نہ لڑتے تو یہاں کوئی ن ہوتا ۔پاکستان کے بقا کی جنگ اس لئے ن لڑی کہ ہمیں شک کی نگاہ سے دیکھا جائے ۔انہوں نے کہا کہ قبائلی علاقوں کو کے پی کے میں شامل کرنے کے وعدے کو پورا کیا جائے ۔بلوچستان کے پختون بیلٹ کو ملاکر ایک حصہ بنائیں گے۔چاہئے کوئی روئے یا ہنسے صوبے کا نام خیبرپختونخواہی ر گا۔انہوں نے کہا کہ پنجاب بڑا صوبہاس کو اپنی ذمہ داری ادا کرنا ہوگی ۔اس وقت صورت حال یہکہ لاہور میں ایک دھماکہ ہواجس کے بعد پختونوں کے گھروں کی تلاشی لی گئی ۔ہم سب کچھ برداشت کرسکتےلیکن اپنی بے عزتی ن ہونے دیں گے ۔

متعلقہ خبر یں

روزانہ خبریں اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔