حکومت کیخلاف دھرنے کااعلان کردیاگیا

لاہور(آئی این پی )امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق
نے لوڈشیڈنگ کیخلاف ملک بھر میں واپڈادفاتر کے سامنے احتجاجی
دھرنوں کااعلان کرتے ہوئے کہاہے کہ حکمران عوامی مسائل کے حل
میں ناکام اوراپنے مفادات کے حصول میں کامیاب ہیں ،لوڈشیڈنگ اور
اور بلنگ کاخاتمہ نہ کیا گیا توپھر واپڈاکے صوبائی ہیڈکوارٹرکے
سامنے احتجاج کرینگے،پانامہ کیس میں سپریم کورٹ نے نوازشریف
کافیصلہ سنادیا ہے ،

انہوں نے کہاکہ اب نیب ،ایف آئی اے،آئی ایس آئی مزید تفتیش
کریگی،پانامہ کیس میں اب نواز شریف ملزم ثابت ہوچکے ہیں وزارت
عظمیٰ چھوڑدیں اگر 60دن بعد نواز شریف کلیئر ہوتے ہیں تو دوبارہ
وزیر اعظم بن جائیں۔کرپشن کے خلاف ملک میں سب سے پہلے تحریک
قاضی حسین احمد نے1996میں شروع کی تھی اور اس تحریک میں جماعت
اسلامی کے چھ کارکنان شہید ہوئے تھے وہی تحریک ہے جو آج جماعت
اسلامی نے کرپشن کے خلاف جاری رکھی ہوئی ہے اور ملک کابچہ بچہ
کرپشن کے خلاف میدان میں نکل آیاہے اب پاکستان اور کرپشن ساتھ
ساتھ نہیں چل سکتے،پاکستان میں کرپشن موجودہ کرپٹ لیڈر شپ
کاتحفہ ہے ۔وہ جمعہ کو بٹ خیلہ ظفر پارک میں جماعت اسلامی کے
زیر اہتمام ایک بڑے شمولیتی جلسہ عام سے خطاب کر رہے تھے ۔ اس
موقع پر ملاکنڈ بٹ خیلہ کی سات سو سے زائد سیاسی وسماجی شخصیات
،جن میں ڈسٹرکٹ کونسلرز،تحصیل کونسلرزاور علمائے کرام کی ایک
بڑی تعداد شامل تھی نے مختلف پارٹیوں سے مستعفی ہوکر جماعت
اسلامی میں شمولیت کا اعلان کیا ،جلسہ عام سے جماعت اسلامی
خیبرپختونخوا کے امیر مشتاق احمد خان ،جے آئی یوتھ کے صوبائی
صدر عبد الغفار خان،جماعت اسلامی خیبرپختونخوا کے مشاورتی کونسل
کے چیئرمین انتخاب چمکنی نے بھی خطاب کیا ،سینیٹر سراج الحق نے
کہا کہ 2017 احتساب کا سال ہے عوام نے اب کرپٹ اشرافیہ کو پہچان
لیا ہے

انہوں نے کہا کہ ملک میں اس وقت غیر یقینی کی صورتحال ہے کرپٹ
حکمرانوں نے عوام کا سکون چھین لیا ہے ،انہی کرپٹ حکمرانوں کی
وجہ سے ملک میں اندھیرے ،غربت،افراتفری اور بدامنی ہے ان
حکمرانوں کے پاس عوام کے یہ مسائل حل کرنے کیلئے نہ کوئی نسخہ
ہے نہ وقت انہیں اب قومی خزانے کی لوٹی ہوئی دولت بچانے کی فکر
ہے کیونکہ وہ بھی دیکھ رہے ہیں کہ عوام اب ا ن کے بے رحمانہ
احتساب کیلئے عملی طور پر میدان میں نکل کھڑے ہیں کرپشن کے
خاتمے اور اس تحریک کو منطقی انجام تک پہنچانے کیلئے ہم آخری حد
تک جائینگے،انہوں نے کہا کہ ملک کا ہر ادارہ اس وقت تباہی کے
دھانے پر ہے اگر کوئی ادارہ یامل فائدے میں ہے تو وہ اسی کرپٹ
ٹولے کی ملکیت میں ہے،

انہوں نے کہا کہ ملاکنڈ ڈویژن سمیت خیبرپختونخوا کے سینکڑوں
شہری سعودی عرب کی جیلوں میں ہیں ہم نے اپنے پارلیمانی وفد
کوبھیج کر ان شہریوں کے مسائل کی حل کیلئے بھرپور کوشش کی ہے
اور ہم یہ کوشش جاری رکھیں گے لیکن اس اہم مسئلے میں مرکزی
حکومت نے ساتھ نہیں دیا جماعت اسلامی نے اپنی سطح پر اس مسئلے
کو اٹھایا ہے اب اگر حکومت بھی اس مسئلے میں دلچسپی لے تو یہ
مسئلہ جلد حل ہوجائیگا انہوں نے کہا خیبرپختونخوا اور ملاکنڈ
ڈویژن میں بجلی پیدا کرنے کے وافر ذخائر موجود ہیں اگر مرکزی
حکومت توجہ دیتی تو یہ ملک بجلی پیداکرنے میں خودکفیل ملک بن
سکتاتھالیکن حکمرانوں نے اس طرف کوئی توجہ ہی نہیں
دی۔سینیٹرسراج الحق نے کہاکہ اس ملک وقوم کے مسائل کاحل صرف
جماعت اسلامی کے پاس ہے جماعت اسلامی اس ملک میں آئین و قانون
کی بالادستی کے ذریعے عوام کو انصاف کی فراہمی کیلئے روڈ میپ
رکھتی ہے ،جماعت اسلامی کے پاس صالح اور ایماندار قیادت ہے
انہوں نے کہا کہ ہم اگر احتساب کی بات کرتے ہیں تو ہم یہ بھی
اعلان کرتے ہیں کہ سب سے پہلے ہم اپنے آپ اور اپنے اراکین
اسمبلی و ناظمین کو عوام کے سامنے احتساب کیلئے پیش کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی کی امانت و دیانت کی گواہی تو
ہماری اعلیٰ عدلیہ دے چکی ہے انہوں نے کہاکہ ہم کسی ایک فرد کا
نہیں ، سب کے احتساب کا مطالبہ کر رہے ہیں ۔ قوم چاہتی ہے کہ جن
لوگوں کے نام پانامہ لیکس آف شور کمپنیوں ، دبئی اور لندن لیکس
اور قرضے ہڑپ کرنے والوں کی فہرست میں ہیں ، ان سب کا بے لاگ
اور بے رحمانہ احتساب ہو اور ان کے پیٹ پھاڑ کر قوم کے لوٹے گئے
اربوں کھربوں روپے واپس لیے جائیں ۔ انہوں نے کہاکہ ایک طرف
شدید اور قیامت خیز گرمی میں عوام بدترین لوڈشیڈنگ کا شکار ہیں
اور دوسری طرف قومی خزانہ لوٹنے والے ٹھنڈے ٹھار محلوں اور
بنگلوں میں بیٹھے ہیں ۔

انہوں نے کہاکہ آج اگر عام آدمی تعلیم ، صحت ،روزگار اور چھت
جیسی بنیادی سہولتوں سے محروم ہے تو اس کے مجرم وہ لٹیرے حکمران
ہیں جنہوں نے ستر سال سے اقتدار پر قبضہ کر رکھاہے ۔ ان لوگوں
نے اپنے لیے ملک اور بیرون ملک شیش محل تیار کیے ہیں جبکہ غریب
کی جھونپڑی میں بیٹھے معصوم بچوں کو کھانے کو کچھ ملتاہے نہ
پینے کے لیے صاف پانی میسر ہے ۔ انہوں نے کہاکہ جماعت اسلامی
2018ء میں ایک بڑی عوامی قوت بن کر ابھرے گی ۔