کوئی ادارہ یہ نہ سوچے کہ طاقت کے ذریعے دوسروں سے بات منوالے گا، فضل الرحمان

fazl al - rahman

اسلام آباد: جے یو آئی (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کا کہناکہ ملک پاناما کی نذر ہوگیا اور اب ایک نئی فضا بنائی جارہیکہ ڈکٹیٹر شپ جمہوریت سے بہتر لیکن پاکستان کے پاس غلطی کی کوئی گنجائش نجب کہ کوئی ادارہ یہ نہ سوچے کہ طاقت کے ذریعے دوسروں سے بات منوالے گا۔

اسلام آباد میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ آج ملک میں جو کچھ نظر آرہاوہ بظاہر تو اندرونی لگتالیکن بیرونی سازش کے تحت ہو رہا ، پاکستان پاناما کی نذر ہوگیا جو امریکا کے زیر اثر ملک جب کہ ہم ایک دوسرے کو عریاں کرنے کے چکر میںاور ایک نئی فضا بنائی جارہیکہ ڈکٹیٹرشپ جمہوریت سے بہتر ، پاکستان کے پاس اب غلطی کی کوئی گنجائش ن۔

مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ سوچناکہ ملک کو کیسے بحران سے نکالیں کیوں کہ غیر ملکی طاقتوں کی نظر سی پیک پر بھیاور جب چین ایک نئے اقتصادی وژن کے ساتھ متعارف ہورہا ، ایسے میں بھارت چین اور پاکستان سے جنگ چھیڑنا چاہتاتاکہ خطے میں ترقی کا ماحول متاثر ہو۔

جے یو آئی(ف) کے سربراہ کا کہنا تھا کہ سیاستدان تنہا کبھی بھی کرپشن ن کرسکتا جب تک بیوروکریسی اسے کرپشن کا ماحول فراہم نہ کرے البتہ کچھ کمزوریاں ہمارے اندر بھی ہوتیاور کوئی ادارہ اب یہ نہ سوچے طاقت کے زور پر سب کچھ منوالیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ایک ادارہ دوسرے ادارے کو کمزور کرنا چاہتاجب کہ ایک ہی وزیراعظم کو پہلے صدر پھر آرمی چیف  اور اب عدلیہ نے گرایا ۔

مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ دو چار روز سے ماحول اخلاقی گراوٹ کا شکار ہوچکا ، عوام کے منتخب نمائندے ایک دوسرے کو چور چور کہہ ر ، کوئی مالیاتی کرپشن کی بات کررہا کوئی اخلاقی کرپشن کی بات کررہا ۔ انہوں نے مزید کہا کہ یورپ ، امریکا میں ایک ملک دوسرے ملک کو فتح کرنے کی جنگ ن لڑرہا لیکن افسوس اسلامی دنیا میں ہم ایک دوسرے کو فتح کرنے میں توانائی صرف کرر ۔