بلاول کا گلالئی کیس جنسی ہراساں قانون کے تحت حل کرنے کا مطالبہ

bilawal

چترال: پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو کا کہناکہ خواتین کو جنسی ہراساں کرنے کے خلاف قانون موجوداور عائشہ گلالئی کے کیس کو اسی قانون کے تحت حل ہونا چاہیئے۔

چترال میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے پیپلزپارٹی کے چئیرمین بلاول بھٹو نے کہا کہ عائشہ گلالئی الزامات انتہائی سنگین معاملہ ، بعض سیاست دانوں نے میڈیا میں جس طرح سے گلالئی پرحملہ کیا اس پر بہت دکھ ہوا، اگرکوئی خاتون الزام لگاتیتو کم از کم اس کے اوراس کے خاندان کے بارے میں اس طرح کی نازیبا باتیں ن کرنی چاہئیں،ملک میں جنسی ہراساں کرنے کے حوالے سے قانون موجودجس کے مطابق اس کیس کو حل کرنا چاہیے جب کہ پارلیمنٹ کے تحت ایسے قوانین ہونے چاہئیں کہ کوئی احتساب سے بالاترنہ ہو۔

بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ سیاست میں الزامات برُا رجحان لیکن پیپلزپارٹ نے کبھی بھی الزام کی سیاست ن کی، شہبازشریف شکست کے ڈرسے این اے 120 کے الیکشن سے بھاگ ر ، 2018 کے الیکشن میں عوام (ن) لیگ کومسترد کریں گے جب کہ مجھ سے 2018 کا الیکشن چترال سے لڑنے کی درخواست کی گئی ۔

آرٹیکل 62، 63 کے حوالے سے بلاول بھٹو نے کہا کہ 1973 کے آئین کو اس کی اصل شکل میں بحال کیا جائے، ضیا اور آمریت کی ترامیم پر کام کرنا پڑے گا۔ بلاول بھٹو نے کہا کہ خواتین کے بھرپور کرداراداکرنے سے ملک کو فائدہ ہوگا، تمام سیاسی جماعتیں نوجوانوں کیلیے بھی پروگرام بنائیں  جب کہ  میں انتخابی اتحادن چاہتاآزادانہ الیکشن لڑنا چاہتا ہوں۔