قتل اور تیزاب پھینکنے کی دھمکیاں دی جا رہی ہیں، عائشہ گلالئی

aisha glaly

اسلام آباد: تحریک انصاف کی باغی رہنما عائشہ گلالئی کا کہناکہ پی ٹی آئی سے نکلتے ہی انتقامی کارروائی کا نشانہ بنایا جا رہااور قتل اور تیزاب پھینکنے کی دھمکیاں دی جا رہی   لیکن میں اور میرا خاندان کسی سے ڈرنے والا ن۔ 

ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی مرتضیٰ جاوید عباسی کی زیر صدارت ہونے والے اجلاس میں تحریک انصاف کی سابق رہنما عائشہ گلالئی نے بات کرنے کی اجازت مانگی تو پی ٹی آئی رہنما شیریں مزاری نے اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ گلالئی کو خود اخلاقیات کا مظاہرہ کرنا چاہیئے اور ایوان میں ن آنا چاہیے کیوں کہ عائشہ گلالئی براہ راست ن خصوصی نشست پر منتخب ہو کر آئیاور ایک بار استعفیٰ دے دیا تو سیاسی پوائنٹ اسکورنگ کیلیے اس فورم کو استعمال کرنے کا کون سا حق بنتا ۔

تحریک انصاف کے رہنماؤں کے احتجاج کے باوجود عائشہ گلالئی نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ کسی مذہب میں گالی گلوچ کی اجازت ن لیکن پی ٹی آئی میں نوجوانوں کو گالیاں دینے کی تربیت دی جاتیجب کہ تحریک انصاف سے نکلتے ہی انتقامی کارروائی کا نشانہ بنایا جا رہااور قتل اور تیزاب پھینکنے کی دھمکیاں دی جارہی ۔ انہوں نے کہا کہ میری بہن قومی ہیرولیکن اس کو بھی معاف ن کیا گیا اور میرے والد کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ، اس تمام تر صورت حال کے باوجود میں اور میرے اہلخانہ کسی سے ڈرنے والے ن۔

عائشہ گلالئی کے خطاب کے دوران پی ٹی آئی کے ارکان کا شور شرابا کرتے ر مگر انہوں نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ مجھے فخر کہ خاتون ایم این اے ہو کر فرض ادا کیا، عزت اور غیرت پر سمجھوتہ ن کیا، عمران خان کوئی خدا ن جب کہ آج میں نے کمزور خواتین کو ایک پیغام دیاکیونکہ خواتین استحصال پر خاموش رہتی مگر آج پی ٹی آئی کی خواتین فون کر کے کہتیکہ آپ نے ہمیں حوصلہ دیا۔ انہوں نے کہا کہ میریٹ پر آئی ہوں استعفیٰ ن دوں گی جب کہ شیریں مزاری کی جانب سے اجنبی کہنے پر کارروائی کروں گی۔