سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد نوازشریف کو مستعفی ہوجانا چاہئے، عمران خان

اسلام آباد: تحریک انصاف کے چئیرمین عمران خان کا کہنا ہے‘ کہ پاناما لیکس کے بینچ کے 2 سینئر ججز نے فیصلہ دیا ہے‘ کہ نوازشریف صادق اور امیں نہیں‘ رہے‘، نوازشریف کو چاہئے کہ وہ اخلاقی طور پر استعفیٰ دے دیں۔ بنی گالہ میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے چئیرمین تحریک انصاف کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ نے جو فیصلہ دیا تمام ججز کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں کیوں انہوں نے نوازشریف کی جانب سے پیش کئے جانے والے قطری شہزادے کا خط اور منی ٹریل سے متعلق تمام تفصیلات کو مسترد کرتے ہوئے جے آئی ٹی تشکیل دینے کا حکم دیا ہے۔
عمران خان کا کہنا تھا کہ پاناما کیس کے پینل میں شامل 2 سینئر ججز نے نوازشریف کے خلاف فیصلہ دیتے ہوئے کہا ہے‘ کہ انہیں‘ فوری طور پر نااہل قراردیا جائے اور کہا ہے‘ کہ نوازشریف نے قوم سے جھوٹ بولا ہے‘ اب وہ صادق اور امین نہیں‘ رہے۔
 اب نوازشریف اخلاقی طور پر استعفیٰ دے دیں۔ ان کا کہنا تھا کہ مجھے انتہائی خوشی ہے‘ کہ اب ملک کے سب سے طاقتور شخص کو اداروں کے سامنے پیش ہونا پڑے گا اور سرکاری افسر وزیراعظم سے تحقیقات کرے گا اور  اب انہیں‘ لیاری گینگ وار کے سرغنہ عزیر بلوچ کی طرح ایک سرکاری افسر کے سامنے پیش ہو کر سوالات کے جوابات دینا پڑیں گے جو ملک کے وزیراعظم کےلئے باعث شرم ہے۔
پی ٹی آئی کے چئیرمین کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ نے یہ بھی کہا ہے‘ کہ نیب اپنی تحقیقات میں بری طرح ناکام ہوگئی ہے۔
اب جب تک جے آئی ٹی اپنا فیصلہ نہیں‘ کرتی نوازشریف کو چاہئے کہ وہ اپنے منصب سے الگ ہوجائیں کیوں کہ ان کے وزیراعظم ہوتے ہوئے کوئی بھی ادارہ ماسوائے فوج کے 2 اداروں کے جو ان کے ماتحت ہے‘ ان سے سوال نہیں‘ کرسکتا اورنا ہی ان کے خلاف کوئی فیصلہ دے سکتا ہے۔
  اس لئے نوازشریف کا چاہئے وہ 60 دن کے لئے اپنے عہدے سے دستبردارہوجائیں اوراپنے حق میں فیصلہ ہوتے ہی منصب سنبھال لیں۔
روزانہ خبریں اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔